بدھ، 25 فروری، 2026

تاریخ بمقابلہ بیانیہ: جرنیلی سڑک کا مقدمہ

0 تبصرے

سلمان رشید پاکستان کے ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ ٹریول رائٹر ہیں جنہیں بجا طور پر عصرِ حاضر کا ”لیونگ لیجنڈ“ کہا جا سکتا ہے۔ ان کی تصنیفات متنوع جغرافیائی خطوں، تہذیبی روایتوں اور تاریخی پرتوں کو اپنی تمام تر دلکشی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں محض سیاحت نہیں بلکہ تاریخ، جغرافیہ، ثقافت اور مقامی معاشرت کا عمیق مطالعہ جھلکتا ہے۔ اسی تسلسل میں وہ ”ایک مسافر کی دنیا“ کے عنوان سے یوٹیوب پر وی لاگ بھی کرتے ہیں۔ 

21 فروری کے ایک وی لاگ میں دینہ میں مجسموں کی تنصیب کے تناظر میں پنجاب کی تاریخی مرکزیت سے متعلق ایک بیانیہ پیش کیا گیا، جس میں بعض تاریخی حوالوں کو خاص زاویے سے استعمال کیا گیا۔ چونکہ سلمان رشید کی علمی و عوامی پذیرائی وسیع ہے اور ان کی آرا کو وقعت حاصل ہے، اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ زیرِ بحث نکات کو تاریخی شواہد اور منطقی ترتیب کے ساتھ پرکھا جائے، تاکہ علمی دیانت برقرار رہے اور اگر کسی مقام پر فہم کی لغزش ہو تو اس کی اصلاح بھی ممکن ہو۔

مذکورہ وی لاگ میں 300 قبل مسیح کی ’’اتراپاتھا‘‘ کو براہِ راست تاریخی تسلسل قائم کرتے ہوئے سولہویں صدی کی جرنیلی سڑک سے منسلک کرنے کا تاثر دیا گیا۔ وی لاگ کا مرکزی بیانیہ سلطان سارنگ خان اور شیر شاہ سوری کے تصادم کو مقامی بمقابلہ بیرونی کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی دہرایا گیا کہ شیر شاہ نے سارنگ خان کو گرفتار کر کے اس کی کھال کھنچوائی اور اس کی لاش کو قلعہ روہتاس کے دروازے پر لٹکا دیا۔ مجموعی طور پر وی لاگ کا تاثر یہ ہے کہ جرنیلی سڑک ، علاقائی تاریخ اور شخصیات کو مقامی شناخت کے زاویے سے ازسرِنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ذیل میں ہم اسی بنیادی استدلال سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں کہ آیا اتراپاتھا کا سولہویں صدی تک بلاانقطاع وجود تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اس وی لاگ کا بنیادی استدلال چوتھی صدی قبل مسیح کی ’’اتراپاتھا‘‘ کو براہِ راست سولہویں صدی کی جرنیلی سڑک سے مربوط کرنا ہے۔ یہ استدلال تاریخی تسلسل کے اصولوں سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتا۔ تاریخ کا سفر سیدھی لکیر کی مانند نہیں ہوتا بلکہ یہ نشیب و فراز، اتار چڑھاؤ اور کبھی کبھار انقطاع کے مراحل سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اس لیے کسی بھی واقعے یا رجحان کو دیکھتے وقت ضروری ہے کہ اسے بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور تہذیبی سیاق میں سمجھا جائے، نہ کہ سادہ خطی تسلسل میں۔

تقریباً اٹھارہ سو برس کے زمانی فاصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے دو ادوار کو یکجا کر دینا علمی احتیاط کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ موریہ عہد میں چندر گپت موریہ کے زمانے میں شاہراہوں کا ذکر یونانی سفیر Megasthenes  نے اپنی کتاب ”انڈیکا“ میں کیا ہے، جہاں وہ انتظامی ڈھانچے اور شہری مراکز کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تاہم موریہ سلطنت کے زوال کے بعد شمالی ہند اور گندھارا کا خطہ بارہا سیاسی انتشار، جغرافیائی تبدیلیوں اور تہذیبی انقلابات سے گزرا، جس کے اثرات مواصلاتی نظام پر بھی مرتب ہوئے ہوں گے۔

اسی تناظر میں سولہویں صدی کی ایک مربوط اور منظم شاہراہ کا تصور؛ جس کے اطراف سرائیں، سنگِ میل اور ستون مستقل بنیادوں پر موجود رہے ہوں، مزید تاریخی تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ اس استدلال کی تائید میں لاہور کے گڑھی شاہو کے کوس مینار کو بھی قدیم شاہراہ کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو بادی النظر میں درست نہیں ہے۔ 

Megasthenes  کے بعد فاہیان، ہیون سانگ، البیرونی اور ابن بطوطہ جیسے سیاحوں کی تحریریں ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن ان میں کسی ایسی منظم شاہراہ کے واضح اور مسلسل نظام کا ذکر نہیں ملتا جسے قدیم اتراپاتھا سے بلاانقطاع منسلک کیا جا سکے۔

تاریخ کے سنگ میل: چندر گپت موریا ، شیر شاہ سوری ، اکبر اعظم ، جہانگیر

قدیم شہری مراکز کی مثال اس بحث کو مزید واضح کرتی ہے۔ Megasthenes  نے ٹیکسلا اور پاٹلی پتر کی غیر معمولی تعریف کی ہے، مگر بعد کے ادوار میں یہ شہر تاریخ کے پردے میں گم ہو گئے۔ انیسویں صدی میں کابل سے واپسی پر Mountstuart Elphinstone  دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے بیچ ٹیکسلا کی تلاش میں سرگرداں رہے، اور بعد ازاں Alexander Cunningham  نے چینی زائرین کے سفرناموں سے رہنمائی لے کر اس کے آثار دریافت کیے۔ جب ایسے عظیم شہری مراکز بھی وقت کی گرد میں دب گئے تو ایک شاہراہ کے بلاانقطاع اپنی اصل صورت میں قائم رہنے کا دعویٰ مزید ٹھوس شواہد کا متقاضی ہے۔

آٹھویں تا دسویں صدی کے شمال مغربی ہند کے بارے میں تاریخی ماخذ نسبتاً کم یاب ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق اس دور کی مذہبی و تہذیبی کشمکش نے قدیم یادگاروں اور شناختوں کو متاثر کیا۔ اشوک کے ستونوں کی مثال ہی لے لیجیے؛ صدیوں تک ان کے کتبے ناقابلِ فہم رہے، حتیٰ کہ  Prinsep James    نے 1837ء میں براہمی رسم الخط کو پڑھ کر ان کی نسبت شہنشاہ اشوک سے جوڑی۔ اس سے قبل خود برصغیر میں بھی ان کی اصل حیثیت واضح نہیں تھی۔ ایسے میں قدیم شاہراہ کے بعینہٖ برقرار رہنے کے دعوے کو مزید تحقیقی بنیادوں کی ضرورت ہے۔

ہماری اس بحث کا بنیادی مقصد تاریخی استدلال میں تسلسل اور ماخذات کی صحت کو پیشِ نظر رکھنا ہے۔ تاریخ کو معاصر شناختی بیانیوں کا ایندھن بنانا علمی دیانت کے منافی ہے، جبکہ صحت مند اختلاف علمی روایت کا حصہ ہے۔


 برٹش انڈیا: مسافر جی ٹی روڈ پر خچر پر سفر کرتے ہوئے

اسی تناظر میں اگر گفتگو شیر شاہ سوری تک پہنچتی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کے کارناموں کو ان کے سیاسی و انتظامی سیاق میں دیکھا جائے۔ ایک نسبتاً محدود پس منظر سے ابھر کر ہندوستان کی باگ ڈور سنبھالنے والے اس حکمران نے مالیاتی اصلاحات، زمینی بندوبست اور انتظامی تنظیم کے میدان میں نمایاں اقدامات کیے۔

یہ درست ہے کہ ان کی ذاتی حکومت محض پانچ برس (1540ء تا 1545ء) پر محیط تھی، مگر سوری اقتدار مجموعی طور پر تقریباً پندرہ برس (1540ء تا 1555ء) قائم رہا۔ بڑے تعمیراتی اور انتظامی منصوبے عموماً ایک فرمانروا کے عہد میں شروع ہو کر جانشینوں کے زمانے میں مکمل ہوتے ہیں۔ قلعہ روہتاس اسی کی مثال ہے، جس کا آغاز شیر شاہ نے کیا اور تکمیل سلیم شاہ کے عہد میں ہوئی، مگر نسبت اسی سے قائم رہی جس نے اس کی بنیاد رکھی۔

اس شاہراہ سے وابستہ نمایاں تاریخی ادوار میں موریہ، سوری، مغل اور برطانوی عہد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ موریہ دور کے بعد اس خطے میں شاہراہوں کے منظم اور ریاستی سطح پر مربوط نظام کے بارے میں شواہد محدود اور منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ اس نسبتاً طویل تاریخی خلا کے بعد سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری کے عہد میں مواصلاتی ڈھانچے کو باقاعدہ ریاستی سرپرستی اور تنظیم حاصل ہوئی۔ سراؤں کے قیام، کوس میناروں کی تنصیب اور ڈاک کے منظم نظام نے اس شاہراہ کو نئی انتظامی معنویت دی۔ چنانچہ جرنیلی سڑک کا نام شیر شاہ سوری کے ساتھ منسلک ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ اس منظم ریاستی اقدام کی تاریخی یادگار ہے، جسے بعد کے مغل اور برطانوی ادوار نے بھی اختیار اور وسعت دی۔

    گرینڈ ٹرنک روڈ، بٹالہ، مشرقی پنجاب - 1930ء

قدیم راستوں کی موجودگی اپنی جگہ، مگر ان کی باقاعدہ مرمت، توسیع، سراؤں کا قیام، کوس میناروں کی تنصیب اور مربوط ڈاک کے نظام کی تشکیل ایک منظم ریاستی پالیسی کے بغیر ممکن نہ تھی۔ یہی وہ انتظامی جہت ہے جس نے اس شاہراہ کو محض ایک گزرگاہ کے بجائے سلطنتی ڈھانچے کی شہ رگ بنا دیا۔

شیر شاہ سوری کی سیاسی زندگی مختصر رہی اور اس کے جانشین انتظامی اور شخصی صلاحیت میں اس کے ہم پلہ ثابت نہ ہو سکے۔ سیاسی عدم استحکام کے بعد اقتدار دوبارہ مغلوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مغل عہد کی تاریخ نویسی نے فطری طور پر اپنی سلطنت کے تسلسل کو نمایاں کیا، جس کے نتیجے میں سوری عہد کی بعض تعمیراتی سرگرمیاں نمایاں طور پر محفوظ نہ رہ سکیں اور وقت کے ساتھ ان کی شناخت دھندلا گئی۔

لہٰذا اگر قدیم اتراپاتھا اور سولہویں صدی کی شاہراہ کے مابین براہِ راست اور غیر منقطع تسلسل ثابت کرنا علمی احتیاط کے منافی ہے، تو اسی طرح شیر شاہ سوری کے انتظامی کارنامے کو محض نسلی یا علاقائی شناخت کے تناظر میں کم تر دکھانا بھی تاریخی دیانت کے خلاف ہوگا۔ انصاف اسی میں ہے کہ ہم نہ تو ماضی کو حال کے تعصبات کا اسیر بنائیں اور نہ ہی کسی شخصیت کی قامت کو عصری بیانیے کی ضرورت کے مطابق گھٹائیں یا بڑھائیں۔ تاریخ کا احترام اسی میں ہے کہ اسے اس کے اپنے عہد، اپنے شواہد اور اپنے تناظر میں سمجھا جائے۔


کوس مینار، گڑھی شاہو، لاہور

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔