گکھڑ،
پٹھان اور پنجاب— درست تناظر
طویل
غیر حاضری کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ تحقیقی کام میں اس قدر مصروف رہا کہ سوشل میڈیا
سے کٹ کر رہ گیا۔ کام ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن آج جہلم میں شیر شاہ سوری کا مجسمہ
ہٹانے اور سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کرنے سے متعلق پوسٹیں دیکھیں تو
افسوس ہوا کہ ایک تاریخی معاملے کو پٹھان اور پنجابی کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ اس بحث
کو تعصب سے نکال کر علمی سطح پر لانے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اہلِ علم اس سلسلے
میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
میرے
خیال میں موجودہ صورتِ حال میں اکبرنامہ کا ایک حوالہ اس بحث کو درست تناظر دینے کے لیے کافی ہے۔ ضرورت پڑی تو دیگر
حوالہ جات بھی پیش کر دیے جائیں گے۔
اکبرنامہ میں درج ہے:
❞زپوشیدہ نماند کہ گگران را طوایف بسیار است و در مابین آب بہت و سند توطن دارند۔ در زمان سلطان زین الدین کشمیری ملک کد نام از امرای غزنین کہ بہ حاکم کابل نیبتی داشت – آمدہ بزور اینجا را از تصرف کشمیریان گرفت❝(ابوالفضل، اکبرنامہ،جلد اول، غلام مرتضی طباطبائی، تحقیقات فرہنگی، تہران،1372ھ، ص 477)
ترجمہ : یہ بات پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ بہت (جہلم) اور سندھ کے درمیان رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد جو غزنی کے امرا میں سے تھا اور جو حاکم کابل کا رشتہ دار تھا، نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔
اس
اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خطہ صدیوں سے مختلف طاقتوں اور قبائل کے باہمی تعامل
کا میدان رہا ہے۔ یوں گکھڑ اور سوری دونوں کا تعلق ایک ہی خطے یعنی افغانستان سے ہے۔ دونوں قبیلے
تقریباً ایک ہی دور میں یہاں آئے — وہ دور جب پہلی مرتبہ پٹھانوں (لودھی
خاندان) کو دہلی کی تخت و تاج نصیب ہوا اور انہوں نے، عباس خان سروانی کے بقول افغانستان سے لوگوں کو
ہندوستان میں آباد ہونے کی ترغیب دی:
عباس خان سروانی،
تاریخ شیر شاہی، مترجم مظہر علی ولا خان، 1963ء، سلمان اکیڈمی، کراچی، صفحہ 8 اور 9
شیر
شاہ سوری کا دادا ابراہیم خان سوری اسی لودھی دور میں افغانستان سے ہجرت
کر کے ہندوستان آیا، بالکل اسی طرح جیسے ملک کد غزنی سے آ کر 'چانہ
بنیر' میں آباد ہوا۔ان کے علاوہ اس دور
میں دیگر افغان قبائل کی بڑی تعداد برصغیر
آئی اور مقامی سماج کا حصہ بنی۔ وقت کے ساتھ یہ گروہ اسی معاشرتی ساخت میں ضم ہو گئے ۔ اس خطے کی شناخت کی تشکیل میں سب نے اپنا کردار
ادا کیا ہے۔ اس تاریخی عمل کو سادہ خانوں میں تقسیم کرنا یا موجودہ شناختوں کی
بنیاد پر ماضی کو پرکھنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
اس
لیے گزارش ہے کہ اس مباحثے کو جذباتی ردِعمل کے بجائے تاریخی شعور کے ساتھ دیکھا
جائے، تاکہ یہ تنازع ، تاریخ فہمی کا ذریعہ بن سکے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مشترکہ
ورثے پر فخر کریں، نہ کہ ایک دوسرے کو غیر ملکی ثابت کرنے میں لگے رہیں۔
0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔