جمعہ، 6 فروری، 2026

کہوٹہ کا ’’علی گڑھ ‘‘

0 تبصرے

  

گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ  کی ''لال عمارت'' کے جشن صد سالہ (1926-2026) کے حوالے سے خصوصی تحریر

’’ ککسٹ‘‘ اور ’’ کے آئی ٹی  ‘‘کے درمیان واقع  گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ اپنی شاندار عمارت اور تاریخی حیثیت کے باعث ممتاز مقام کا حامل ہے۔ کہوٹہ میں تعلیم کی اولین علامتوں میں سے ایک یہ تاریخ ساز ادارہ بذات خود ایک تاریخ ہے۔ یہ’’ لال‘‘ اسکول اب بہت سے نیلے پیلے اسکولوں میں گھرا ہوا ہے لیکن اپنی وسعت، اٹھان، دلکشی اور پائیداری میں لاثانی ہے۔ اس کی آتشیں اینٹوں سے دھیان لاہور سے ہوتا ہوا لال قلعہ دہلی سے جا ٹکراتا ہے۔ اس بلڈنگ کو پوٹھوہار کے نصف کوہسار کا علی گڑھ کہیں تو غلط نہ ہو گا۔

 کلر روڈ سے سکول میں داخل ہوں تو فلک بوس سرو، گلاب قامت مورپنکھ، متناسب روشیں، شاداب لان اور ان کے اطراف میں آتشیں اینٹوں کی ابھرتی  ہوئی سرخ عمارت نے منظر کو دل آویز بنا دیا ہے۔

  سکول کے صدر دروازے کے سامنے گھنے برگد کے ایک ڈال کے ساتھ گھنٹی بندھی ہے۔ سن چھبیس سے سنتالیس تک یہاں یونین جیک اور سنتالیس سے سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔ یہیں صبح اسمبلی ہوتی ہے۔

 U شکل کی اس عمارت کا رخ جنوب کی طرف ہے۔ اسکول کی مرکزی عمارت طرزِ تعمیر کا دل کش نمونہ ہے۔ قلعہ نما دیواریں، بلند و بالا چھتیں، کشادہ کمرے اور دو طرفہ دریچے اپنی مثال آپ ہیں۔ برآمدوں کی محرابی راہداریاں اس سکول کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں۔ ایک صدی سے، اس پرانی عمارت میں ہر سال ایک نئی نسل داخل ہوتی رہی۔ اس کی زندگی کے راستے ان راہداریوں میں متعین ہوئے اور اس اسکول کی فیض بخش فضاؤں نے ان کی آئندہ زندگی کو تابندگی بخشی۔


ایک زمانہ تھا جب یہ اسکول کوٹلی سے کلر تک تعلیمی فضیلت کا واحد مرکز تھا۔ چونکہ دور دراز سے اسکول پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی اس لیے اسکول کے بالائی منزل بورڈنگ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔

 تعلیمی اداروں کا ماحول نونہالوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ان کی تعمیر میں عظمت اور دل کشی کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔  گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول  کی عمارت اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس  کا ماحول فضائیں  انتہائی  دلکش اور خوشگوار ہیں۔ یہ تاریخی ادارہ ہماری ملی قدروں کا محافظ ہے۔ برآمدے کی دیواروں پر اقوالِ زریں اور منتخب اشعار لکھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ بچوں کی خدا داد صلاحیتوں کو جگمگانے اور انہیں اعلی اخلاق سے مزین کرنے میں مگن ہیں۔ برآمدوں میں لگی طلبہ اور اساتذہ کی گروپ تصاویر نے سکول کے نظارے کو منفرد بنا دیا ہے اور اسے انہیں دیکھ کر من میں یاد کی چنبیلی مہکنے لگتی ہے۔  

  کبھی یہاں پر ٹاٹ، تختی، کانے کے قلم اور سلیٹ کا چلن تھا لیکن اب کی بورڈ، ماؤس اور ٹچ کی تربیت کے لیے آئی ٹی لیب موجود ہے۔ اسکول کی سائنس لیبارٹری قابلِ رشک ہے۔ اتنے جدید اور قیمتی آلات کم ہی لیبارٹریوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ  ادارے کی لائبریری کو بھی  فعال بنا دیا گیا ہے۔

گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول  کہوٹہ تحصیل کے ایجوکیشنل سسٹم میں نیوکلیس کی حیثیت کا حامل ہے۔ ٹیچرز ٹریننگ، حج ٹریننگ، الیکشن ٹریننگ، کمپیوٹر ٹریننگ، تحصیل بھر کے لیے کتابوں کا اجرا، اوپن یونیورسٹی کے جملہ کورسز اور کھیلوں کے مقابلوں کا مرکز ہے۔ 

اسکول کی شمالی سمت ایک وسیع و عریض میدان ہے۔ تحصیل کی سطح کے کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلوں کی میزبانی کا شرف بھی اسی گراؤنڈ کے حصّے میں آتا ہے۔ شام کے اوقات اور چھٹی کے دنوں میں شہر بھر سے کھیلوں کے شوقین یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔

 سکول کی جنوبی سمت مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والے کلاس رومز ہیں۔ 1990 میں جناب کرنل محمد یامین ستّی نے سائنس روم کا افتتاح کیا اور دسمبر 2012 میں جناب شاہد خاقان عباسی نے 5 کمروں کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ ایک خوبصورت مسجد ہے جسے الحاج فضل الہی صاحب کے تعاون سے نئے سرے سے تعمیر کروایا گیا اور اس کا ایک دروازہ اہل محلہ کی سہولت کے لیے مین روڈ کی طرف کھلتا ہے۔

 اس ادارے کے چھبیسویں سربراہ جناب ناظم قمر کا پندرہ سالہ دور ایک روایتی سرکاری سکول کو ایک باوقار دانش گاہ میں بدلنے کی تخلیقی جدوجہد سے عبارت تھا۔ انہوں نے سکول کی تعمیر کے لیے بننے والے اینٹوں کے بھٹے کی باقیات کی جگہ ایک ہال اور دوخوبصورت لان بنوائے۔ جن کے وسط میں طشت نما گملے اور اطراف میں رنگ برنگے گلاب لگوا کرسکول کے استقبالیہ تاثر کو دل آویز بنایا۔سکول کے برآمدوں  اور فرنٹ وال کو معیاری اقوال و اشعار سے مزین کیا۔ اور برآمدوں میں ایسی تصاویر آویزاں کیں کہ آج بھی ان سے نگاہ نہیں اٹھتی۔

 سرکاری سکول ایک مدت تلک بچوں کے لیے خوف کی علامت رہے۔ ڈانٹ ڈپٹ، مولا بخش، رٹا، کان پکڑانا، مرغا بننا، جرمانہ، جسمانی سزائیں معمول رہا۔ اب مار کے بجائے پیار کا سلوگن چل رہا ہے۔ اس کے باوجود بچے چھٹی کی گھنٹی کے لیے ترستے   رہتے ہیں۔ 

ادارے کی سو سالہ تکمیل گورنمنٹ گریجویٹ کالج کے لیے بھی خوشی اور جشن کا تقاضا کرتی ہے۔ 1964ء میں یہیں انٹر کالج کے کلاسز شروع ہوئیں۔ 1980ء میں انٹر کالج لنگ ندی کے کنارے منتقل ہو گیا۔ اب ہائی اسکول، ہائر سیکنڈری اسکول اور انٹر کالج گریجویٹ کالج بن چکا ہے۔

سکول کی تاریخ کے اس یادگار موقع پر، اس کے پرنسپل جناب سید ضمیر حسین شاہ، ادارے کے باوقار اساتذہ اور نونہالوں کو دلی مبارک باد۔ نیز ان لاکھوں سابق طلبہ کو بھی، جن کی زندگیوں کو تابندگی بخشنے والی فیض بخش فضاء یہیں سے ملی۔

 زمانے کی دھوپ، بارشوں اور زلزلوں نے اس عمارت کو گھائل کر دیا ہے۔ یہ  تاریخی ورثہ اب ہماری توجہ چاہتا ہے۔ یہ محض اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ اہل کہوٹہ کے جذبوں اور  یادوں کی یادگار ہے۔لال عمارت کے سو برس کی تکمیل کے اس تاریخی موقع پر ہر صاحبِ دل سے اپیل ہے کہ وہ  کہوٹہ کے اس  ’’ علی گڑھ‘‘ کی حفاظت کے لیے آگے آئے، تاکہ اس زندہ تاریخ کو تابندہ بنایا جا سکے۔ 



پیر، 14 اپریل، 2025

جاوید احمد - سکوتِ شب کا نقیب

0 تبصرے


جاوید احمد - سکوتِ شب کا نقیب

( 14اپریل 2024ء -جاوید احمد کی پہلی برسی کے موقع پر)



کبھی کبھی کوئی ستارہ یوں چمکتا ہے کہ مقدر کا در کھل جاتا ہے،  تخلیق کی روشنی اترتی ہے، اور لفظ    نگینوں کی طرح جگمگانے لگتے ہیں۔ایسی ہی ایک ساعتِ سعید میں، کہوٹہ کے سرسبز کوہسار کی ایک سربلند چوٹی — سوڑ — پر،  ایک عاشقِ اقبال، محمد اقبال کے ہاں ایک ستارہ نمودار ہوا۔ فرزندِ اقبال کے نام پر اس کا نام "جاوید" رکھا گیا، اور پھر یہ جاوید... جاوداں ہو گیا۔

  جاوید احمد کی شاعرانہ جبلّت فطرت کی گود میں پروان چڑھی، مگر اس کی سمت منفرد تھی۔ جہاں  پرندے پالنے کی روایت تھی، وہاں انہوں  نے لفظوں کی پرورش کی — اور پھر لفظ ان  پر نثار ہو گئے  ؎

لفظ وہ پرندے ہیں، پیار اُسی سے کرتے ہیں
جس نے ان کو رکھا ہے، جس نے ان کو پالا ہے

ان  کی نگاہ نے اوروں کی طرح صرف فطری مناظر کو نہیں دیکھا، بلکہ انہیں سماج سے ہم آہنگ کیا؎

آسماں پر لمبے چکر چیلوں کے
اور زمیں پر دائرے تنگ فصیلوں کے

البتہ سپہ گری کی روایت برقرار رہی۔ لیکن عسکری  ڈسپلن ان کی شاعرانہ طبیعت پر بار تھا۔اس لیے  اسی کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی جائن کر لیا۔ گویا سوڑ کی  یہ تخلیقی آبشار تخلیق کے سمندر سے جا ملی۔

کراچی ریڈیو ان دنوں سارہ شگفتہ، فاطمہ حسن، حمایت علی شاعر، منظر ایوبی اور امید فاضلی جیسے دانشور تخلیق کاروں کا مرکز تھا۔ مزید جاننے کی جستجو  انہیں ' اردو کالج' لے گئی،  جہاں انہیں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، ابوالخیر کشفی اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری جیسے عہد ساز اساتذہ سے اکتساب کا موقع ملا۔ کالج کے بہترین شاعر کے انتخاب کے لیے طرحی مشاعرہ ہوا۔ مصرع طرح تھا:"کہہ رہا ہے موجِ دریا سے کنارہ شام کا"، جب جاوید احمد گویا ہوئے تو گویا جاوداں ہو گئے؎ 

لے گئے وہ ساتھ اپنے حُسن سارا شام کا
ہجر کی تصویر ہے اب ہر نظارہ شام کا
لوٹ کر وہ شام سے پہلے ہی گھر آنے لگے
ان سے شاید چھن گیا کوئی سہارا شام کا

کراچی میں ان دنوں اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی قمر جمیل صاحب  کے حلقے کا شہرہ تھا۔اسی حلقے سے جاوید احمد کی جاودانی کا سفر شروع ہوا۔ ان کی  شعر فہمی نے نئی کروٹ لی اور درد، آرائشِ فن کی بنیاد ٹھہرا۔ لفظ منشور بنے اور خیال کی دھنک ان میں جھلملانے لگی۔ ان کا کلام قمر جمیل صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والے اردو کے رجحان ساز مجلے "دریافت" کی زینت بننے لگا۔

 جاوید احمد میں  آہنگ کی طرف قدرتی لپک تھی۔ سوڑ، پوٹھوہار کے مشرقی کوہستانی سلسلے کے ان مقامات میں سے ایک  ہے جہاں سیلانی مجذوب بری امام کی بیٹھکیں ہیں۔ ایک زمانے سے یہاں نوبت بج رہی تھی، لیکن یہ صدا جاوید احمد کی سماعتوں کی بجائے دل کے پردے پر دستک دینے لگی؎

چوبکِ سوختہ رہی نوبتِ بے صدا کے پاس
جل کے کرشمہ ساز نے مجھ کو گدازِ فن دیا


  ریڈیو پاکستان کراچی  میں مہدی حسن کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر نے انہیں  سروں کے اسرار سے آشنا کیا، تو آواز وجد آفریں ہو گئی۔  مشاعروں میں تحت اللفظ  کے بعد  ترنم سے غزل سناتے تو وقت ٹھہر جاتا۔ خصوصاً یہ غزل جس میں پیچیدہ انسانی  نفسیات کے دلکش اظہار  کو ان کی آواز نے امر کر دیا؎

بکھرنا، ٹوٹنا بھی اور انا کے ساتھ بھی رہنا
ستم ایجاد بھی کرنا، وفا کے ساتھ بھی رہنا


سوڑ کے اس ستارے نے 1990ء میں دبئی میں سخن کی کہکشاں کو جا لیا۔ "جشنِ جون ایلیا" میں جاوید احمد کا کلام سنا نہیں محسوس کیا گیا؎

 اپنی   وحشت لیے جا کہیں اور جا، دل مرا چھوڑ دے
اے شبِ روسیاہ، میرے مہتاب کا راستہ چھوڑ دے

1993ء میں حکومتِ پاکستان کے نمائندہ شاعر کی حیثیت سے بھارت کا دورہ کیا۔ جہاں درِ  غالب پر حاضری کی ان کی دیرینہ حسرت پوری ہوئی۔


 کراچی کے بعد پشاور اور راولپنڈی سے ہوتے ہوئے جب وہ کہوٹہ واپس آئے تو  وہ جاوداں ہو چکے تھے۔  کہوٹہ جسے عبدالقدیر خان نے جوہری شناخت دی، جاوید احمد نے اسے فکری، ادبی اور شعری شناخت عطا کی۔ اور  کہوٹہ کو ملک گیر ادبی منظرنامے پر لا کھڑا کیا۔

 ان کا پہلا شعری مجموعہ مثال 1997ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کا عنوان ممتاز شاعرہ ثمینہ راجہ نے جاوید احمد کے ایک خوبصورت شعر سے متاثر ہو کر تجویز کیا؎

لمحہ لمحہ ترے خیال میں ہے
زندگی عالمِ مثال میں ہے

 یہ عنوان نہ صرف شعری فضا کا آئینہ دار ہے بلکہ جاوید احمد کے تخلیقی مزاج، جمالیاتی وژن اور وجودی اسلوب کو بھی نہایت خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔

مثال کو  اردو دنیا کے مقتدر شعرا نے نہایت پذیرائی بخشی۔ وزیر آغا نے ان کی غزل کو سمندر کی گہرائیوں سے ابھرنے والی اس موج سے تشبیہ دی جو بگڑتی کم، بنتی زیادہ ہے۔ رشید امجد نے ان کی شاعری کو روایت، رچاؤ اور جدید حسیت کا حسین امتزاج قرار دیا۔ جلیل عالی کے نزدیک جاوید احمد ایک "جینوئن اور مشکل شاعر" ہیں، جو بہت سی سمتوں کا مسافر ہے۔اختر عثمان نے لکھا کہ جاوید احمد نے روایتی لفظوں کو روایتی مضمون میں استعمال کرنے کی بجائے لفظوں کے نئے کنگرے دریافت کیے ہیں۔ جب کہ افتخار عارف نے ان کے اشعار میں رس، نرمی اور مٹھاس کی آمیزش کو ان کا طرۂ امتیاز کہا۔ ظفر اقبال نے انہیں جدید غزل کے اسلوب و امکانات میں حیرت انگیز اضافہ کرنے والا شاعر قرار دیا۔ ان آرا سے جاوید احمد کی فکری گہرائی، فنی انفرادیت اور شعری امتیاز کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

کشمیر کی تحریکِ آزادی کے باب میں جاوید احمد شعری محاذ پر ہر اول دستے کے سالار تھے۔ 2001ء میں کشمیر پر ان کی کتاب "اے دنیا کے منصفو!" منظر عام پر آئی۔جس پر انہیں صدارتی ایوارڈ ملا۔ ان کی نظم 'اے دنیا کے منصفو!' نے  مسئلہ کشمیر کو عالمی ایوانوں تک پہنچایا۔ رخسانہ مرتضیٰ اور حنا صدیقی نے اسے گایا تو یہ نظم تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ترانہ بن گئی؎

 اے دنیا کے منصفو!
سلامتی کے ضامنو!
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو!

ادب، سیاست، مذہب، تصوف اور فلسفہ سے انہیں خاص شغف تھا، اور یہی دلچسپیاں ان کی شاعری کے فکری پس منظر میں جھلکتی ہیں۔ 2016ء میں ان کا شعری مجموعہ "مٹی کا شجر" شائع ہوا۔ جب وہ کہتے ہیں کہ "نرالی میری خوشبو ہے، میں مٹی کا شجر ہوں"—تو یہ صرف ایک سطر نہیں، بلکہ خاکی انسان میں پنہاں اس کی وجودی، اساطیری اور فلسفیانہ معنویت کا استعارہ ہے۔

غزل جاوید احمد  کا بنیادی حوالہ تھی۔2020ء میں ان  کی غزلیات کا انتخاب "ایک پردہ سخن سے آگے ہے"  دلاور علی آذر نے  شائع کیا۔


اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے  ' پوٹھوہاری' میں بھی کلام تخلیق کیا۔ یہ کلام مصری  کی ڈلیوں اور  بیری کے شہد کی طرح میٹھا اور رسیلا ہے؎

اپنڑی اپنڑی سب پے بانڑے، تو وی تے کج بول یرا
چپ تروڑ تے سامنڑے آ، ہونٹاں نے جندرے کھول ذرا

6 اپریل 2024 کو ان کی سالگرہ کے موقع پر کہوٹہ کے ادب دوست  ان کے گرد حلقہ کیے بیٹھے تھے۔ نقاہت  بہت بڑھ چکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ گھنٹوں باتیں کرتے اور کلام سناتے رہے۔۔۔دس دن بعد، 14 اپریل کو، حیاتِ جاوید پا گئے؎

ڈوبتے جا رہے ہیں لوگ اس میں
یہ زمیں خاک کا سمندر ہے

 ان کی غیر مطبوعہ غزلوں کے مجموعہ"وارفتہ" پر جاوید احمد کے مستقل  حلقہ نشین حسیب علی، عدنان نصیر اور حسن ظہیر راجہ کام کر رہے ہیں، جو بہت جلد منظرِ عام پر آ جائے گا۔ کیا اچھا ہو کہ لگے ہاتھوں  اس جاوداں شخصیت کی انمول یادوں کو بھی محفوظ کر لیا جائے۔


 بلاشبہ جاوید احمد بطور شخص اور شاعر سدا بہار ہیں۔ ان کا آفاق گیر کلام ہی لوگوں کے دلوں پر ثبت نہیں ہوا، ان کی وجد آفریں آواز کی حاکمیت بھی دائمی ہے۔ٖ ان کی ایک بڑی  خوش نصیبی یہ بھی ہے کہ  ان کے فرزند حسن جاوید اور شعری ورثے کے امین حسن ظہیر راجہ، جاوید احمد کے خوابوں کی تعبیر دینے  کا ذوق، ظرف، فراست اور ولولۂ تازہ  رکھتے ہیں۔ بہت جلد "کہوٹہ لٹریری سوسائٹی" اردو کے شعری افق پر نئی آب و تاب سے جلوہ گر ہو گی۔ ان شااللہ تعالی !!

ہفتہ، 4 فروری، 2023

جولیاں جائے تعلیم نہیں تھی

0 تبصرے

جولیاں جان لیوا نام ہے۔اسے سنتے ہی  دھیان ہم جولیوں سے ہوتا ہوا، مرادوں بھری جھولیوں کے طرف چل نکلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ٹیکسلا جب شاہ ڈھیری کہلاتا  تھا۔۔۔ تو  ان دنوں ا س ڈھیری کو  جائے ولیاں کہا جانے لگا جو وقت کے ساتھ  جولیاں ہو گیا۔اس جگہ کا اصل نام   کیا ہے؟ اس  حوالے سے تاریخ۔۔۔ جولیاں کی  اس خانقاہ کی طرح خاموش ہے۔

مقامی زبان میں جا جگہ کو کہتے ہیں، جائے ولیاں فارسی ترکیب ہے،  جولیاں  اورگریکو رومن  نام جولیان میں ایک نقطے کا فرق ہے۔ٹیکسلا شہر کی طرح    اس پہاڑی  خانقاہ کے نام میں بھی کئی  تہذیبیں جھلکتی ہیں۔

پنجاب و پختون خواہ کے سنگم پر واقع  اس ڈھیری  کو بجا طور پر جائے ولیاں یعنی سیٹ آف سینٹس کہا گیا ہے کہ صوفی، سنت، سادھو ، جوگی اور بھکشو ایسے ہی ویرانے پسند کرتے ہیں ۔ کَپِل وَستُو  کی روشنی نے  ہزاروں چوٹیوں کو  چمکایا  لیکن جو چمک جولیاں کے حصے میں آئی وہ کم کم چوٹیوں کو نصیب ہوئی۔ اس کا شمار ٹاپ ٹورسٹ ڈسٹینشنز میں ہوتا ہے۔ مہاتما گاندھی سے لے کر پرنس  چارلس تک  ایک دنیا یہاں آ چکی ہے۔بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے تو یہ کسی جنت سے کم نہیں ہے۔ اہل علم   کی اکثریت یہاں آتی ،  اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی اور  اپنی خوشی اور عقیدت کا اظہار، ٹویٹس،  وڈیوز، آرٹیکلز اور تھیسز کی صورت میں کرتی ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے  اپنے تعلیمی و تفریحی ٹرپس  کے لیے   جولیاں کو بہترین انتخاب سمجھتے ہیں۔

ہم نے بچپن سے سن رکھا تھا کہ  جولیاں میں  دنیا کی پہلی یونیورسٹی   کے آثار ہیں۔ اس لیے  ہم نے جب جب  جولیاں کمپلیکس  میں قدم رکھا تو عقیدتاً  اس  کی خاک اپنے سر اور چہرے پر ملی۔

جولیاں کمپلیکس کے  دو حصے ہیں۔ پہلے  خانقاہ  ہے۔ جہاں  منتی اسٹوپوں پر   بدھا کی شبہیں ہیں۔ آرٹ ورک  اتنا شاندار ہے ۔۔۔کہ دل، دماغ، آنکھیں، قلم،   کیمرے سب  اس پر فِدا ہیں۔   بدھا کے چہرے کی مسکراہٹ کا تخیقی حسن نظر پتھرا اور دل پگھلا دیتا ہے۔ اب زیادہ تر مورتیاں ٹیکسلا میوزیم میں پڑی ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے صنم تراشوں نے عشق کو حیرت میں ڈال رکھا تھا۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اُس دور میں جولیاں، ٹیکسلا اور گندھارا کی  فضاؤں میں روحانی سرشاری کا کیا عالم ہو گا جب بے خودبھکشو مرادوں کی جھولیاں بھرنے دور دراز  مقامات سے  جولیاں آتے اور ان کا طواف کرتے تھے۔ شفا بخش بدھا کی ناف میں انگلی رکھتے ہی سر سے پاؤں تک مسیحائی کی تاثیرمحسوس کرتے تھے۔  رہی سہی  کمی قریبی ڈھیری سے مشت بھر خاکِ شفا سے نکل جاتی  تھی۔

جولیاں کی یہ خانقاہ کشانوں کی  معاشی اور تہذیبی خوشحالی کی آئینہ دار ہے۔  بدھا نے صرف راج گدی ہی نہیں تیاگی تھی، وشواس کے رنگین   پردے بھی  تار تار کر دیے تھے مگر مہایان نے بدھا کی  مدھم مارگم گچامی کی تعلیمات تیاگ کر اسے  بھگوان بنا دیا  ۔ اس کی مورتیاں اس کثرت سے بنوائیں کہ گندھارا میں  اب بھی زیر زمین ہزاروں مورتیاں دفن ہیں۔ بدھا نے  کہا تھا کہ ۔۔۔سروم دکھم ۔۔۔اور اس بے کراں دکھ سے نجات کےلیے راستی کے  ہشت اصول دیے ۔۔۔ لیکن   مہایان نے  نروان کی شاہراہ پر وشواش کے ریشمی پردے آویزاں کر دیے۔

کمپلیکس کے اگلے حصے میں ایک کورٹ یارڈ ہے۔ یہی وہ کورٹ یارڈ ہے جسے دنیا کی پہلی یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ آپ جیسے ہی خانقاہ سے اس کورڈ یارڈ میں قدم رکھتے ہیں تو بائیں جانب ایک مندر میں بدھا کو گیان دھیان میں ڈوبا ہوا پاتے ہیں۔ اس احاطہ میں تقریباً  26 کھولیاں، ایک تالاب اور ایک باتھ روم ہے۔ اتنے ہی کمرے دوسری منزل پر تھے جو گر چکے  ہیں۔ ہر کمرے میں دو طاق ہیں۔کورٹ یارڈ میں لگی تختی بتاتی ہے کہ ودیارتھی ایک میں دیپک اور دوسری میں پشتک رکھتے تھے۔ گندھارا  کی زیادہ تر  خانقاہوں کے آثار ایسے ہی ہیں۔ چھوٹے  اور سادہ کمرے۔ تمام کمروں کا ایک دروازہ جو صحن یا تالاب  کی طرف کھلتا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ کورٹ یارڈ  کے اگلے حصے میں  لائبریری، لیبارٹری اور اوبزرویٹری   وغیرہ کے آثار ہوں گے لیکن وہاں  کچن، کچن انچارج کا کمرہ، گودام، اناج پیسنے، پکانے، کھانے اور برتن دھونے وغیرہ کی جگہوں  کے آثار  ہیں۔

اس احاطہ میں  ایک  اسمبلی ہال بھی ہے۔ ایسے ہی  اسمبلی ہال    گندھارا کی  کچھ  اور   خانقاہوں  میں بھی ملتے  ہیں۔ ویساک اور دیگر اہم  موقعوں پر  جب زائرین مل کر ورد کرتے اور   گیت گاتے ہوں گے  تو جولیاں کی خاموشیوں میں طلسم بکھر جاتا ہو گا۔

بدھم شرنم گچھامی                                                      

دھمم شرنم گھچامی

سنگھم شرنم گھچامی 

مگر جدت پسند مہایان نے بھیڑ ماؤنڈ ، سرکپ اور سر سکھ کی بجائے اس  پہاڑی ویرانے میں یہ خانقاہ کیوں بنائی؟؟؟ ایسا اس لیے کیا گیا کہ ٹیکسلا ہمیشہ حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے۔ بھکشوؤں کی حفاظت کے پیش نظر خانقاہوں کے لیے ایسے  ویرانوں  کا انتخاب کیا گیا ۔اٹلی کے معرف آرکیالوجست ڈاکٹر لوقا ماریہ اولوویری کا حال میں ایک آرٹیکل منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے جولیاں سمیت بہت سی بدھسٹ سائٹس کو خانقاہیں اور پناہ گاہیں لکھا ہے۔

ٹیکسلا کا شمار گندھارا کے ان مقامات میں ہوتا ہے جہاں بدھ مت کا پھیلاؤ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اشوکا نے دھرما راجیکا سے بدھ زیارت گاہوں کی تعمیر کی جو شروعات کی تھی کشانوں نے اسے شاندار انداز میں آگے بڑھایا۔بعض زیارت گاہوں کے ساتھ زائرین کے لیے اقامت گاہیں بھی  تعمیر  کی گئیں۔جولیاں بھی ایک ایسی ہی اقامتی  خانقاہ  دکھائی دیتی ہے۔الیگزینڈر کنگھم  نے سروے آف انڈیا   اور  جون مارشل نے گائیڈ ٹو ٹیکسلا میں اسے خانقاہ  ہی لکھا ہے۔

راولپنڈی گزیٹیئر 1893-94 کے مطابق ''جاولی کی قدیم باقیات پانچ خستہ حال سٹوپوں اور دو مندروں میں مشتمل ہیں۔ ان سبھی پر تحقیق کی جا چکی ہے مگر قابل قدر نتائج سامنے نہیں آئے''۔

ٹیکسلا کے دیگر مقامات کی طرح جولیاں کی اس  خانقاہ   بھی 1980 میں ورلڈ ہیریٹیج سائٹس میں شامل کر لیا گیا۔یہاں لگا   یونیسکو کا معلوماتی   بورڈ بھی  اسے خانقاہ ہی بتاتا ہے۔اگر آپ ٹیکسلا سے جولیاں کا سفر کریں تو  آپ کو راہنمائی کے لیے لگائے گئے بورڈز پر  آثار قدیمہ جولیاں یا جولیاں خانقاہ  ہی لکھا ہوا ملے گا۔

    ڈاکٹر احمد حسن دانی  کی ہسٹورک سٹی آف ٹیکسلا  کے مطابق  جولیاں  بدھ زائرین کی آرام گاہوں یا میٹنگ پوائنٹس میں سے ایک تھی جو مختلف ممالک سے یہاں تک کا سفر کرتے اور مانسہرہ سے مانکیالہ کی زیارتوں پر حاضری دیتے تھے ۔ڈاکٹر  دانی نے یہاں سے ملنے والے نَوادِرات کے جو تفصیل دی ہے اس میں سکّے، صراحیاں، چینکیں، کٹورے، مرتبان کے ڈھکن، زیورات، انگوٹھیاں اورہار وغیرہ شامل ہیں۔اس فہرست میں ایک دوات بھی  ہے۔ اس بنیاد  پر آپ اسے اسکول، کالج،  یونیورسٹی، آشرم، پاٹ شالا  یا وشوودیالہ کا درجہ دینا چاہیں تو جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی  کہ ایک خانقاہی  سرائے میں کوئی درسگاہ نہیں ہو سکتی ۔۔۔بلکہ اصل بات  یہیں سے شروع  ہوتی ہے کہ آخر دنیا کی قدیم ترین درسگاہ   اس سرائے  سے منسوب کیسے ہوئی؟ اگر دنیا کی پہلی  یونیورسٹی یہاں نہیں   تو  پھر ٹیکسلا میں کس جگہ تھی؟ تھی بھی یا نہیں؟  اگر تھی تو پھر   وزٹرز۔۔۔ ''کہاں ہے، کس طرف کو ہے ،کدھر ہے'' ۔۔۔کی تصویر کیوں بنے ہوئے ہیں؟   یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات کے جوابات کے لیے دیکھیے ہمارا اگلا آرٹیکل : '' تکشاشیلا  یونیورسٹی :  اک کہانی ہے اور کچھ بھی نہیں ''


اتوار، 26 دسمبر، 2021

ساعی

0 تبصرے

 

 

کہوٹہ کلر روڈ پر نوگراں اور دکھائی کی درمیانی ندی  کراس کریں تو بائیں ہاتھ تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر صدیوں پرانا برگد ساعی کی نشان دہی کرتا ہے۔ جہاں سنتالیس اور وانا میں دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ایک شہید کی قبر ہے۔

 

اپر اور لوئر ساعی کا مجموعی رقبہ تقریباً 4 ہزار کنال پر مشتمل ہے۔ یہاں کی اصل آبادی ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر گئے۔ موجودہ آباد کاروں میں سے کچھ تو دو اڑھائی سو سال پہلے روات اور بیور وغیرہ سے آ کر یہاں آباد ہوئے اور بقیہ 47 میں شملہ، امرتسر اور کشمیر سے ہجرت کر کے یہاں آئے۔

 

گاؤں میں ایک تاریخی اسکول ہے۔ جس کے لیے جگہ 1851ء میں "رام جی" نے دی۔ شروع میں یہ تین کمروں پر مشتمل تھا اور اس کی چھت لکڑی کی تھی۔ 1880ء میں یہ پرائمری، 1905ء میں لوئر مڈل اور 1917ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا۔ سن 47 سے 51 تک یہ سکول بند رہا اور سن 51 میں ماسٹر کالا صاحب نے اسے دوبارہ کھولا۔

 

گاؤں کے شمال میں'کس' کے قریب ایک پہاڑی پر 'عید گاہ' ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے دکھالی، کوٹ، نوگراں، بمبلوٹ، لس، کلاہنہ اور ڈھیری وغیرہ سے قافلے کلمہ طیبہ لکھے جھنڈے اٹھائے اور کلمے کا ورد کرتے اس عید گاہ کی طرف آتے تھے۔

 

ساعی کی حدود اس ندی تک ہیں۔ یہاں ایک چشمہ (ناڑہ) ہے۔ ساتھ ''خواجہ خضر'' کی بیٹھک  ہے جن  کے دم سے چشمہ جاری ہے۔ کے آر ایل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پانی کی ضروریات کے لیے کے آر ایل کے ماہرین کی ایک ٹیم نےتحقیق کی توپتا چلا کہ ساعی سے کافی اوپر 'دھنیام' کے مقام سے پانی کی رگیں نکلتی ہیں۔

ہفتہ، 25 دسمبر، 2021

دادا امیر حیدر کے مزار تک

0 تبصرے

 





میں مارچ سنتالیس کے فسادات کے محرکات پر غور کر رہا تھا۔ بظاہر ان کے خونی چھینٹے مسلم لیگ کے سفید لباس پر پڑتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ برطانیہ عظمٰی کے ایجنٹوں اور ایجنسیوں کوان فسا دات کی بروقت خبر کیوں نہیں ہوئی؟؟؟ انڈین آرمی کو پنڈی سے کہوٹہ آنے میں 5 دن کیوں لگے؟؟؟ خشونت سنگھ نے جناح اور تقسیم ہند کے حوالے سے اپنی کتاب میں بٹوارے کا ذمہ دار سردار پٹیل اور پنڈت نہرو کو ٹھہرایا ہے۔لیگی اور کانگرسی اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ یہ دونوں فریق سامراج کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے ۔۔۔؟ جس نے پہلے انتہائی عیاری سے ہندوستان پر قبضہ کیا اورپھرعوام کو تقسیم کرنے اور حکومت کرنے کا انسانیت کش اصول اپنایا۔ اس گھناونے مقصد کے حصول کے لیے 1872 کی مردم شماری میں مذہب کا خانہ خصوصی طور پر شامل کیا ۔ تقسیم در تقسیم کے اصول پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کو طبقات میں بانٹا۔ کاغذات مال میں مذہب کے ساتھ ذات اور پیشے کا اندارج لازمی ٹھہرایا۔ جس کے اخراج کا سہرا سوا سو سال بعد کہوٹہ کی ایک سیاسی اور سماجی شخصیت غلام ربانی قریشی کے سر بندھا۔

دوسری عالمگیر جنگ کے بعد برطانوی سامراج کا سورج غروب ہونے لگا ۔سامراجی تاجردنیا میں پھیلتی ہوئی اشتراکیت سے خائف تھے۔ فروری 1946 میں جب جہازیوں نے رائل انڈین بحریہ کے جہازوں پر سرخ پرچم لہرائے تو سامراج لرز گیا۔ہندوستان کی آزادی کی رو کوعالمی اشتراکی انقلابی دھارے سے علاحدہ رکھنے کے لیے بوئی گئی مذھبی منافرت کو بھڑکانا بنیادی میکنزم ٹھہرا۔مجوزہ مشرقی پاکستان میں نواکھلی اور مغربی پاکستان میں کہوٹہ کو خصوصی طور پر خونی ڈرامہ سٹیج کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ کیبنٹ مشن کا ڈول ڈالا گیا ۔خلافِ اصول اقتدار گانگرس کے حوالے کیا گیاـــــــــ16 اگست کو راست اقدام ہواـــــــــقانون کے ہاتھ میں پہلی مرتبہ پستول دیکھا گیاـــــــ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیاں خونی فسادات، قتل و غارت گری، نسل کشی، لوٹ مار، خواتین کی بے آبروئی اور کنویں میں چھلانگیں۔ــــ کچھ ماہ بعد سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان کہوٹہ میں ہوبہو سٹیج سجایا گیا۔ـــــ14 اور 15 اگست 1947 کوہندوستان کی حسبِ منشا خونی تقسیم عمل میں لائی گئی جس کے زخم آج تک چاٹے جا رہے ہیں۔

'' جہازیوں کی بغاوت ''سے میرا دھیان کالیاں سہالیاں کے لفٹسٹ اور ْْْغدر پارٹی کے عظیم قائد دادا امیر حیدر کی طرف چلا گیا۔'' جو دریائے جہلم کے بیچ کنڈی والے میں آ کر آباد ہو گیا۔جب جہلم نے اپنا رخ بدلا تو اس کی مٹی پر دادا کے والد کالو خان نے اپنا کوٹھا تعمیر کیا۔ یوں کچی بستی کاہلیاں کی بنیاد پڑی۔بعد میں یہ کاہلیاں سہالیاں بن گیا۔ یہیں دادا امیر حیدرپیدا ہوئے۔ پانچ برس کے تھے کہ یتیم ہو گئے۔ بچپن میں آواز رندھ گئی ۔سوتیلے باپ کا سلوک اچھا نہیں تھا۔ دادا بچپن میں ننگے پاوں کاہلیاں کی ریتلے راستوں پر آواروہ گھومتے رہتے۔ تلخ حالات کے تھپیڑے تو کسی نہ کسی طرح سہہ گئے لیکن ایک مرتبہ ماں نے چماٹ ماری تو برداشت نہ کر سکے اور پشاور چلے گئے اورخچر بس سروس میں مزدوری کرنے لگے۔مشقت نے آواز بھی بحال کردی۔ ماں کی یاد ستائی تو واپس آ گئے۔ ماں نے انہیں کسی طرح آٹھ میل کے فاصلے پر گورنمنٹ پرائمری سکول بیول داخل کرا دیا۔'' (شکریہ: دادا امیر حیدر نے بتایا مرزا حامد بیگ)

میں کچھ دن پہلے کلر بائی پاس، کنوہا، سھوٹ، چوہا خالصہ سے ہوتا کالیاں کے راستے میں بیول کے اس ا سکول جا پہنچا جہاں دادا نے تین کلاسیں پاس کی تھیں۔ یہی ان کی کل تعلیم تھی بقیہ تعلیم انہوں نے بس سٹاپوں، فٹ پاتھوں، بحری گودیوں اور دخانی جہازوں میں حاصل کی جہاں انہوں نے مزدور، ملاح، میرین انجینئر،پائلٹ، ریلوے انجینئر اور کامریڈ تک کے مراحل طے کیے۔

1860 میں تعمیر ہونے والا گورنمنٹ پرائمری سکول بیول اب ہائی کے درجے میں ہے۔معصوم امیر اسکول میں جھاڑو لگانے کے علاوہ اساتذہ کے گھوڑوں کو پانی بھی پلانے ۔ جس کے صلے میں ہیڈ ماسٹر انہیں کھانا دیتے اور جانوروں کے لیے مخصوص ڈیوڑھی میں رات گزارنے کی اجازت تھی۔

میں بیول کی اس ویران مسجدکا کھوج لگانا چاہتا تھا جوکبھی کبھارامیر حیدر کا ٹھکانہ رہتی رہی ہے۔ لیکن بیول بہت بدل گیا ہے۔ اب اس کا شمار پاکستان کے خوشحال ترین موضعات میں ہوتا ہے۔یہاں کسی ویران مسجد کا ملنا محال ہے۔

میں اس راستے کو مشتاق نگاہوں سے دیکھنے لگا جہاں سے ہوتے ہوئے دادا پشاور ، کلکتہ اور آخری بار 1914 میں بمبئی گئے تھے۔جہاں سے انہوں نے کئی براعظموں کا سفر کیا اور 1945 میں گاوں لوٹے۔ میں بیول، سموٹ سے ہوتا ہوا کلر سیداں کے انتہائی شمال میں موضع کالیاں پہنچ گیا جو2004تک کہوٹہ میں شامل تھااورجس کے بارے میں دادا امیر حیدر کہا کرتے تھے کہ خدا اسے بنا کر بھول گیا ہے۔

کالیاں میں قابل دید گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کی عمارات ہیں۔ یہ دونوں سکول دادا نے وقف کیے اور اپنی زندگی میں ہائی کا درجہ دلوا یا۔بوائز ہائی سکول پندرہ کنال پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں سفیدے کے قطار اندر قطار درخت، گراسی گراونڈ، باسکٹ بال کورٹ، کمپیوٹر لیب اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے۔میں سکول کے وسیع حاطہ کے ایک کونے میں دادا کی قبر پر جا پہنچا جس پر حاضری کا عہد میں کئی سال پہلے کر چکا تھا۔

کہوٹہ لٹریری سوسائٹی کے سابق صدر مرحوم سرور سلطان نے کامریڈ عمر جمیل اور محترمہ فرزانہ باری کو دومرتبہ کہوٹہ مدعو کیا۔سرشار سوشلسٹ عمر جمیل مریدانہ اشتیاق سے دادا امیر حیدر سے اپنی ارادت کا گھنٹوں اظہار کرتے رہے۔ یہ بھی طے پایا کہ اگلی مرتبہ کہوٹہ سے"ڈالی" لے کردادا کی قبر تک جائیں گے۔فرینڈز ہوٹل کہوٹہ میں ''عوامی ورکر پارٹی '' کی مقامی تنظیم سازی بھی ہوئی۔ لیکن سرور سلطان صاحب اچانک چل بسےاور سب کچھ ادھورا رہ گیا۔اب کہوٹہ میں ڈاکٹرنجیب نگارش ، سبط سرور سلطان اور صابر علی صدیقی انفردی طور پراپنے اپنے حلقوں میں مارکسی فکر پر بات کرتے رہتے ہیں۔ البتہ ایک اور تنظیم فکر شاہ ولی اللٰہی گزشتہ دس سال سے عبید اللہ سندھی کے سماجی افکارکاابلاغ محتاط لیکن منظم انداز میں کررہی ہے۔ کہوٹہ کی نئی نسل کو مارکسزم سے متعارف کروانے میں ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹرارشد معراج کا بھی بہت دخل ہے جوگورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیںَ۔

میں دادا کے رشتہ داروں سے ملنا چاہتا تھا لیکن پتا چلا کہ وہ سامنے سہالیاں رہتے ہیں۔ کالیاں اور سہالیاں یوں تو آمنے سامنے ہیں لیکن دونوں میں منگلا جھیل کا گہرا پانی ہے۔ کشتی تک پہنچنے کا راستہ شرمناک حد تک خراب ہے۔

مارکس نے کہا تھا کہ۔۔۔ The proletarians have nothing to lose but their chains.دادا امیر حیدر نے اپنی یاداشتوں کا نام بھی NOTHING TO LOSE رکھا۔یہ یاداشتیں انہوں نے انیس انتالیس میں دورانِ اسیری مرتب کیں انہیں پڑھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ سامراج نے پوٹھوہار کو کتنا پسماندہ رکھا تاکہ جنگ میں جھونکنے کے لیے انسانی ایندھن کی رسد بحال رہے۔اس کا پنجابی ترجمہ ''اک اکّی نی کہانی" کے عنوان سے چھپا۔

انقلابی کہیں کا بھی ہو اس کی زندگی کوئے یار سے سوئے دار کا سفر ہوتی ہے۔۔دادا اپنے اشتراکی نطریات کے باعث عمر بھر ریاستی جبر، قیدو بند اور جلاوطنی کی صعوبتیں کاٹتے رہے۔ میرٹھ سازش کیس میں 1929 میں ان کے وارانٹ گرفتاری نکلے۔ لیکن بحری راستے سے فرار ہو گئے۔ 1932 میں واپس آئے اورگرفتار ہوگئے۔ 1939 میں دوسال کی قید ہوئی۔قیام پاکسان کے بعد اکثر جیل یاترا ہوتی رہی۔

پوٹھوہار اطراف و جوانب سے الزامات کی زد میں رہتا ہے۔ دادا امیر حیدر کی بے داغ جبیں نے ان الزامات کی شدت کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔ کسی عقیدت گزار نے ان کے مزار پر بجا طور پر لکھا ہے
نہیں ہے کوئی بھی داغِ سجدہ تری جبیں پر
ڈٹا رہا عرصہ وفا میں تو زندگی بھر

" بھاٹہ تاریخ کے آئینے میں''

0 تبصرے

 


قمر عبداللہ یہ کتاب اپنے مادرِِ علمی گورنمنٹ ہائی سکول بھاٹا کی صد سالہ یومِ تاسیس کے موقعہ پرشائع کروا رہے ہیں۔ جو ادارے کے ساتھ ان کے مخلصانہ تعلق کا باوقاراظہارہے۔ بھاٹہ کی تاریخ، اقوام، شخصیات اور مقامات وغیرہ کا مفصل احوال انتہائی سادہ اور دلنشین پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ لفظ لفظ سے مٹی کی محبت کی خوشبو آ رہی ہے۔

مجھے بھاٹا اور اہل بھاٹآ کے مقدر پر رشک آ رہا ہے کہ اس گاوں کی پانچ چھ سو سالہ تاریخ اور شخصیات پر اتنا تحقیقی کام ہوا ہے۔ ہمارے ہاں گاوں گوٹھ اور قصبے تو درکنار بے شمار چھوٹے بڑے شہر ایسے ہیں جنہیں قمر تو کیا، اب تک کوئی عبداللہ نہیں ملا۔

قمر عبداللہ افسانہ نگار، ناول نگار، صوفی اور شاعر ہیں۔ ہر شعبے کا حق کتاب کی صورت میں ادا چکے ہیں۔ عربی شاہ قلندر پر ان کی کتاب ''جلوہ عشق'' اہلِ تصوف سے داد وصول کر چکی ہے۔ اس لیے " بھاٹہ تاریخ کے آئینے میں'' ان کی صوفیانہ خوش خیالی کی جھلکیاں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔

قمر عبداللہ پہلی مرتبہ تاریخ کے پرخار دشت میں قدم رکھ رہے ہیں۔ اس میدان کی وسعتیں دیکھتے ہوئے اس کتاب میں گنجائشیں یقیناً ہوں گی۔ لیکن انہوں نے مستقبل کے مورخ اور محقق کے لیے بنیادی کام کر دیا ہے۔
(حبیبـــــ گـــــوہرکے مضمون سے اقتباس)

ابن آدم

0 تبصرے

 


کہوٹہ کے جنوب میں تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر سروٹ ہے۔ یہ گاوں ایک بڑے مرتفع میدان پر پھیلا ہوا ہے۔سروٹ کی حدود کو لنگ اور کلھمن کا پانی چھوتا ہوا گزرتا ہے۔ '' سر '' سنسکرت میں پانی کو کہتے ہیں۔ جس طرح روسی ناموں کے آخر میںً ف لگا کر انہیں گورباچوف ، کریموف ، اسلاموف بنا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کہوٹہ میں جگہوں کے ناموں کے آخر میں ٹ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔۔۔علیوٹ، کھڈیوٹ،دریوٹ، نتھوٹ اور سروٹ۔

کہوٹہ میں سروٹ جنجوعہ راجگان کے مراکز میں سے ایک ہے۔۔۔ جنجوعہ سپہ گری اور شاہ سواری میں تاریخی شہرت رکھتے ہیں ۔۔۔ راجہ مل کے سروٹی دولال اقبال خان کے گھر1934 میں وہ راج پوت پیدا ہوا جس نے اردو ادب کے جاسوسی راج محل میں تین دھائیاں قیام کیا۔

پون صدی پہلے سروٹ کے سنگریزوں پر ننگے پاوں پھرتے اور لنگ کے لہروں سے کھیلتے معصوم بنارس کے بارے میں کون جانتا تھا کہ کل اس کے تخیل کے دریا کی لہروں میں لاکھوں شناورتنکے کی طرح بہتے نظر آئیں گے۔

کہوٹہ کلر روڈ پر سہالی فیروزال سے دائیں سروٹ کی طرف جائیں تو ''گلہ'' کے مقام پر کاہو کے تین قدیم اور تناور درختوں کے سائے میں جاسوسی ادب کا قدآور ابنِ آدم مستقل آرام کر رہا ہے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ مخصوص شخصی اور سماجی تفاخر کی حامل قوم کے ''راج پوت '' نے اپنا قلمی نام ابن آدم منتخب کیا اور محدود دائرے سے نکل کر آفاقی دائرے میں داخل ہو گیا۔

ابن آدم کے والد راجہ اقبال خان کاشتکار تھے۔۔۔ پھر پولیس میں ملازمت اختیار کر لی۔۔۔راجہ بنارس کی تعلیم پرائمری سکول پنجاڑچوک کہوٹہ اور ہائی سکول کہوٹہ میں ہوئی ۔ 1950 میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔۔ ایف اے دوران سروس پرائیوٹ کیا۔1978 میں ریٹائرڈ ہو گئے۔ 1980 سے 1996 تک گورنمنٹ ہائی سکول کہوٹہ میں ہیڈ کلرک کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔

ان کی پہلی کہانی 1962 میں روزنامہ تعمیر میں ایم بی شاہیں کے نام سے چھپی۔ان کا ناول دوزخی 1965 میں چھپا۔ آورہ گرد دس سال '' نئے افق '' میں قسط وار چھپتا رہا ۔ آوارہ گرد کے علاوہ ، لاوراث، چرغ، عنوشہ ، ٹھگ، ماڈرن ٹھگ، سیاہ عقاب، ٹوٹی کمند یہاں، کفن بدوش،کوثری، جلتے دامن، جب بہار آئی، بے نقاب اور کفن کی بکل وغیرہ لکھے۔ اس کے علاوہ ماہانہ ڈائجسٹوں نیا رخ اور نئے افق کے لیے قسط وار کہانیاں لکھتے تھے۔

ڈائجسٹوں کی ڈیمانڈ کے مطابق ابن آدم کی اکثر کہانیاں افسانوی ہیں۔۔ ان میں ماورائی اور غیر مرئی عناصر بھی ہیں۔۔ اس کے علاوہ انہوں نے سماجی مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ لاوراث اس کی محض ایک مثال ہے۔یہ ایک یتیم بچے اور ایک بہادر عورت کی کہانی ہے جسے خودغرض معاشرہ دھتکار دیتا ہےلیکن وہ شکست تسلیم نہیں کرتی اور اپنی اولاد کے لیے سماج کے جبر کا مقابلہ کرتی ہے۔ ان کے کردار معاشرے کے عام افراد ہیں۔ ان کی کہانیوں کے ہیرو بھی افسانوی ہیروز کی طرح نہیں ہیں۔
ابن آدم کے کچھ ناول تحریک آزادی کشمیر کے متعلق ہیں۔۔ جن میں شعلہ حریت اور چرغ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ کشمیر سے کہوٹہ کا خصوصی تعلق ہے۔ ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔۔۔ کشمیرپر کہوٹہ کے جناب جاوید احمد کو "اے دنیا کے منصفو!" پر صدارتی ایوارڈ ملا۔

ابن آدم صحافی بھی تھے۔۔۔ پہلے اساس اخبار سے منسلک رہے۔۔ اوصاف میں کافی عرضہ شہباز کے عنوان سے کالم لکھتے رہے۔ آل پاکستان اخبارفروش یونین کے سیکرٹری جنرل ٹکا خان عباسی کے رفاقت میں آپ نے مسلمان اخبار نکالا جس کے آپ چیف ایڈیٹر تھے۔ گھر سے باہر آپ کا زیادہ تر وقت اخبار مارکیٹ اسلام آباد یا پریس کلب کہوٹہ میں صوفی ایوب صاحب کے ساتھ گزرتا تھا۔آپ 3 بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کے واحد کفیل تھے۔ اس لیے جگر کے کینسر کے باوجود لکھنا پڑتا۔ 8 مئی 1998 کو وفات پائی اور 7 مئی 1998 کو اوصاف میں آپ کا کالم چھا ہوا تھا۔

ابن آدم کا ایک روپ '' پہاپا بنارس '' کا بھی تھا۔ ریڈیو کے پروگرام راول رنگ اور گراں نی وسنی کےعلاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے بھی پوٹھوہاری ٹیلی پلے لکھے۔ آپ پوٹھوہاری کے اچھے صداکار بھی تھے اور حسب ضرورت ریڈیو پروگراموں میں کام کرتے تھے۔ ماسٹر نثارجیسے جید پوٹھوہاری شاعر ان سے مختلف علمی نکات پرمشورہ کرتے۔۔۔مشہور شعر خواں راجہ عابد کو متعارف بھی آپ نے کرایا۔ شعرخوانی کے لیے '' پہاپابنارس '' کی خدمات کے اعتراف میں بزم اھل سخن پوٹھوہار کی جانب سے آپ کو شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

ان کے دوستوں میں اختر امام رضوی ، سلطان ظہور اختر ، ڈاکٹر محمد عارف قریشی ، ملک مبین (مرحوم) ، راجہ سکندر(مرحوم) ، ٹکا خان عباسی اور جناب برکت کیانی شامل تھے۔ ان کی وفات پر قدیر میونسپل لائبریری میں ایک تعزیتی اجلاس ہواتھا کچھ ماہ پہلے راجہ انور نے ان پر ایک کالم لکھا۔اس کے علاوہ ابن آدم پر کوئی کام نہیں ہوا۔ ان کے مختلف کرداروں کی تفصیل تو ایک طرف ان کی کتابوں کی کوئی فہرست بھی اب تک مرتب نہیں ہو سکی۔

کہوٹہ کے اے سی بلال ہاشم اہلِ علم کے قدردان ہیں۔ اگر کہوٹہ کی کسی سڑک کا نام ابن آدم کے نام پر رکھ دیا جائے تو اس مردہ سماج میں ایک زندہ مثال ہو گی۔۔اس کے علاوہ قدیر میونسپل لائبریری میں جاسوسی ادب کا سیکشن ان کے نام ہونا چاہیئے۔ ان کی تمام کتب اس میں رکھی جانی چاہیئیں۔ شہر کے کتب فروش اگر ان کی کتابیں اپنی دکانوں میں رکھیں تو یہ احسان شناسی کے زمرے میں آئے گا۔

معروف دانشور راجہ انور نے اپنے ایک اخباری کالم میں (3 اپریل 2014 ، بازگشت ، دنیا نیوز) ابن آدم کو پوٹھوہار کا ٹالسٹائی قرار دیا ہے۔ ٹالسٹائی اور ابن آدم میں کافی قدریں مشترک تھیں۔ دیہی پس منظر، فوجی خدمات ، کہانی کار، ناول نگار، زود نویسی اور تاریخ نویسی۔
ابن آدم ڈاکٹر محمد عارف قریشی کی رفاقت میں مختلف عنوانات کے تحت کہوٹہ کی تاریخ مرتب کر رہے تھے۔۔۔۔کہوٹہ چراغ سے بلب تک ، ٹیلی فون کی پہلی گھنٹی ، کہوٹہ میں پہلی موٹرکار وغیرہ وغیرہ۔ بدنصیبی کہ ابن آدم کی زندگی نے وفا نہیں کی اور یہ کام ادھورا رہ گیا ۔۔۔ اگر یہ ادھوری تاریخ پبلک ہو جائے تو یہ لکھاریوں کے لیے مہمیز کا کام کرے گی اور انہیں تکمیل پر ابھارے گی۔۔

ابن آدم کے طرزِ تحریر کی دو جھلکیاں دیکھئے :
٭۔۔۔''دولت ہی عزت ، وقار، شہرت ، شناخت اور طاقت ہے۔ دولت کسی گدھے کی اکاونٹ میں ہو تولوگ اسے بھی جھک جھک کر سلام کریں گے اور کسی انسان کی جیب خالی ہو تو اسے گدھے کی طرح ہانکنے لگتے ہیں۔''
عنوشہ

٭۔۔۔"منافقت اور بے وفائی کا زنگ کسی تعلق، کسی جذبے، کسی رشتے کو نہیں چھوڑتا۔۔ خود غرضی اور وقتی تسکین کی خواہشوں میں سچے جذبے یونہی گم ہو جاتے ہیں۔'' تعبیر۔عنوشہ