جہلم میں شیر شاہ سوری کا
مجسمہ ہٹا کر سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کیے جانے کا معاملہ طول پکڑ گیا
ہے۔ مقامی انتظامیہ کی بے تدبیری کو سوشل میڈیا نے ’پٹھان بمقابلہ پنجابی‘ کی جنگ
کا رنگ دے دیا ہے۔ جو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سامنے آ رہی ہے وہ
ہمارے معاشرتی تانے بانے کو بکھیر سکتی ہے۔
تاریخ کو سیاق و سباق سے
کاٹ کر پیش کرنا ہمیشہ گمراہ کن تعبیرات کو جنم دیتا ہے۔ موجودہ بحث کو جس طرح
پنجابی بمقابلہ پٹھان کا رنگ دیا جا رہا ہے، وہ اسی نا آشنائی کا نتیجہ ہے۔ اس
تنازعے کو سمجھنے کے لیے اکبر نامہ کا ایک حوالہ ہی کافی ہے۔ ابوالفضل اکبر نامہ کی
پہلی جلد میں لکھتے ہیں :
”یہ بات پوشیدہ نہ
رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ بہت (جہلم) اور سندھ کے درمیان
رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد جو غزنی کے امرا میں سے تھا
اور جو حاکم کابل کا رشتہ دار تھا، نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔“
اکبر نامہ 1590 ء میں
منظر عام پر آیا۔ اس روایت کو بعد کے مؤرخین نے عمومی طور پر قبول کیا ہے۔ دستیاب
مآخذات میں اس کی تردید نہیں ملتی۔ یوں دونوں کا تعلق ایک ہی خطے سے بنتا ہے اور
دونوں اس وقت ہندوستان آئے جب پہلی بار پٹھانوں (لودھی خاندان) کو دہلی کا تخت ملا۔
عباس خان سروانی نے تاریخ شیر شاہی میں لکھا ہے کہ بڑے پیمانے پر افغانی قبائل کو
ہندوستان آنے اور مراعات حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ سوری، گکھڑ اور دیگر قبائل اسی
دور میں یہاں آئے اور مقامی معاشرے میں ضم ہو کر اس خطے کی نئی شناخت کی تشکیل میں
اپنا کردار ادا کیا۔
مغلوں نے لودھیوں سے
اقتدار چھینا تھا جو سوریوں کے محسن تھے۔ جب شیر شاہ نے اقتدار سنبھالا تو اس نے
سارنگ خان سے بیعت چاہی۔ سارنگ خان کے انکار کی ایک بڑی وجہ مغلوں کے ساتھ سیاسی
وفاداری تھی۔ اس پورے عمل میں پنجابیت اور پٹھانیت کہاں سے آ گئی؟ نہ ہی اس عہد میں
’پنجاب‘ کا موجودہ سیاسی و ثقافتی تصور موجود تھا۔
گکھڑوں نے مختلف ادوار میں
بدلتے سیاسی حالات کے مطابق حکمرانوں کا ساتھ دیا۔ کبھی وہ لودھیوں کے حلیف رہے،
کبھی مغلوں کے، کبھی افغانوں کے، اور بعد ازاں انگریزوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے۔
یہ طرزِ عمل کسی نسلی وابستگی کا نہیں بلکہ سیاسی مصلحت اور حالات کا عکاس تھا۔
اگر مجسمے کی تنصیب یا
تنسیخ واقعی حکومتی سطح پر ہوئی ہے تو یہ افسوس ناک ہے کہ تاریخی معاملات کو غیر
ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔ جس سے غیر ضروری تنازع نے جنم لیا۔ ذرا وہ عبارت
ملاحظہ ہو جو دینہ میں سلطان سارنگ خان گکھڑ کے مجسمے پر درج ہے :
”ضلع جہلم پنجاب دی
اوہ مقدس دھرتی اے جس نے بہادری، غیرت تے جرت نال پنجابی قوم دا سر ہمیشہ فخر نال
بلند رکھیا۔ ضلع جہلم ہر دور اچ ماں دھرتی پنجاب تے آپنڑی پنجابی قوم دی حفاظت لئی
شہید تے غازی پیدا کردا رہیا اے۔ جو قوم تے وطن دی حفاظت لئی ڈٹ کے کھڑے ہوئے۔ سلطان
سارنگ خان گکھڑ راجپوت پنجاب دے اوہ عظیم سلطان سن جنہاں پنجاب دی آزادی تے آپنڑی
پنجابی قوم دی عزت لئی میدانِ جنگ وچ اپنے سولہ پتراں سمیت بہادری تے جرت نال
شہادت قبول کیتی۔ پر کسے افغانی لٹیرے دا تسلط قبول نا کیتا۔ اج وی جہلم دی مٹی ایہ
پیغام دیندی اے کہ پنجابی غلامی قبول نہیں کردے۔ اسیں مڈھ توں ہی سلطان آں۔ جیوے
پنجابی قوم جیوے پنجاب وسے سوہنڑا پاکستان“
ترجمہ: ”ضلع جہلم پنجاب کی
وہ مقدس دھرتی ہے جس نے بہادری، غیرت اور جرات کے ساتھ پنجابی قوم کا سر ہمیشہ فخر
سے بلند رکھا۔ ضلع جہلم ہر دور میں ماں دھرتی پنجاب اور اپنی پنجابی قوم کی حفاظت
کے لیے شہید اور غازی پیدا کرتا رہا ہے، جو قوم اور وطن کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر
کھڑے ہوئے۔ سلطان سارنگ خان گکھڑ راجپوت پنجاب کے وہ عظیم سلطان تھے جنہوں نے
پنجاب کی آزادی اور اپنی پنجابی قوم کی عزت کے لیے میدان جنگ میں اپنے سولہ بیٹوں
سمیت بہادری اور جرات کے ساتھ شہادت قبول کی، لیکن کسی افغانی لٹیرے کا تسلط قبول
نہیں کیا۔ آج بھی جہلم کی مٹی یہ پیغام دیتی ہے کہ پنجابی غلامی قبول نہیں کرتے۔
ہم ازلی سلطان ہیں۔ زندہ باد پنجابی قوم، زندہ باد پنجاب، خوبصورت پاکستان زندہ
باد۔“
سرکاری مونوگرام اور چیف
منسٹر مریم نواز کی تصویر کے ساتھ اس پلیٹ پر درج عبارت ”افغانی لٹیرا“ جیسے الفاظ
کے ذریعے نسلی تعصب کو ہوا دے رہی ہے اور ”اسیں مڈھ توں ہی سلطان آں“ کی مبالغہ
آرائی سے جدید قوم پرستی کی تجدید کر رہی ہے۔ پندرہویں صدی کے سیاسی پیکار کو آج کی
نسلی شناختوں کے پیمانے سے ناپنا علمی طور پر درست نہیں اور سرکاری سطح پر ایسی
زبان ملکی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔
یہ پورا معاملہ مریم نواز
کے بیوٹیفیکیشن پروجیکٹ کے تحت شروع ہوا۔ دینہ کی انتظامیہ نے پہلے شیر شاہ سوری
کا مجسمہ نصب کیا، پھر مقامی دباؤ پر اسے ہٹا کر سارنگ خان کا مجسمہ متنازع عبارت
کے ساتھ لگا دیا۔ اگر مجسمہ تبدیل کرنا ہی تھا تو شیر شاہ سوری کو قلعہ رہتاس کے
باہر نصب کیا جا سکتا تھا۔ مریم نواز کو یہاں ایک بالغ سیاست دان کا ثبوت دینا چاہیے
تھا۔ ان سے توقع تھی کہ وہ مقامی جذبات کی ترجمانی کی بجائے انہیں صحیح سمت دیں گی۔
لیکن اس معاملے میں نہ ان کا عمل کسی ذمہ دار حکومتی سربراہ کے شایانِ شان نہیں
رہا۔
بہتر ہے کہ شیر شاہ سوری
اور سلطان سارنگ خان دونوں کو ان کے عہد، سیاسی تناظر اور تاریخی کردار کے مطابق
سمجھا جائے۔ یہ محض دو شخصیات کا تنازعہ نہیں، بلکہ ہماری تاریخ فہمی کا امتحان
ہے۔ اس کے لیے ہمیں تعصب کی بجائے تحقیق کو معیار بنانا چاہیے اور نسلی و علاقائی
بنیادوں پر بڑھی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لیے فوری اور موثر کوشش کرنی چاہیے۔
اس واقعے نے گلزار کی جنم بھومی دینہ کی تہذیبی لطافت کو دھندلا سا دیا ہے۔ وہی دینہ جسے گلزار نے اپنی یادوں میں پکھراج کے چاند اور پشمینے کی راتوں کی نرمی سے آباد کیا تھا، آج وہاں سے نفرت کے لہریں اٹھ رہی ہیں۔ کاش جہلم کی لہروں میں تہذیب کی روانی باقی رہے اور نالہ گھان تعصب کی آلودگی سے پاک رہے۔ شہروں کی شناخت نفرت سے نہیں، روایت، مکالمے اور باہمی احترام سے محفوظ رہتی ہے۔
(بشکریہ: ہم سب، 20 فروری 2026ء)








%20(1).jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

%20(2).png)