بدھ، 25 فروری، 2026

تاریخ یا تعصب: تاریخ یا تعصب؟

0 تبصرے

 

جہلم میں شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹا کر سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کیے جانے کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی بے تدبیری کو سوشل میڈیا نے ’پٹھان بمقابلہ پنجابی‘ کی جنگ کا رنگ دے دیا ہے۔ جو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سامنے آ رہی ہے وہ ہمارے معاشرتی تانے بانے کو بکھیر سکتی ہے۔

تاریخ کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا ہمیشہ گمراہ کن تعبیرات کو جنم دیتا ہے۔ موجودہ بحث کو جس طرح پنجابی بمقابلہ پٹھان کا رنگ دیا جا رہا ہے، وہ اسی نا آشنائی کا نتیجہ ہے۔ اس تنازعے کو سمجھنے کے لیے اکبر نامہ کا ایک حوالہ ہی کافی ہے۔ ابوالفضل اکبر نامہ کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں :

یہ بات پوشیدہ نہ رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ بہت (جہلم) اور سندھ کے درمیان رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد جو غزنی کے امرا میں سے تھا اور جو حاکم کابل کا رشتہ دار تھا، نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔

اکبر نامہ 1590 ء میں منظر عام پر آیا۔ اس روایت کو بعد کے مؤرخین نے عمومی طور پر قبول کیا ہے۔ دستیاب مآخذات میں اس کی تردید نہیں ملتی۔ یوں دونوں کا تعلق ایک ہی خطے سے بنتا ہے اور دونوں اس وقت ہندوستان آئے جب پہلی بار پٹھانوں (لودھی خاندان) کو دہلی کا تخت ملا۔ عباس خان سروانی نے تاریخ شیر شاہی میں لکھا ہے کہ بڑے پیمانے پر افغانی قبائل کو ہندوستان آنے اور مراعات حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ سوری، گکھڑ اور دیگر قبائل اسی دور میں یہاں آئے اور مقامی معاشرے میں ضم ہو کر اس خطے کی نئی شناخت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔

مغلوں نے لودھیوں سے اقتدار چھینا تھا جو سوریوں کے محسن تھے۔ جب شیر شاہ نے اقتدار سنبھالا تو اس نے سارنگ خان سے بیعت چاہی۔ سارنگ خان کے انکار کی ایک بڑی وجہ مغلوں کے ساتھ سیاسی وفاداری تھی۔ اس پورے عمل میں پنجابیت اور پٹھانیت کہاں سے آ گئی؟ نہ ہی اس عہد میں ’پنجاب‘ کا موجودہ سیاسی و ثقافتی تصور موجود تھا۔

گکھڑوں نے مختلف ادوار میں بدلتے سیاسی حالات کے مطابق حکمرانوں کا ساتھ دیا۔ کبھی وہ لودھیوں کے حلیف رہے، کبھی مغلوں کے، کبھی افغانوں کے، اور بعد ازاں انگریزوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے۔ یہ طرزِ عمل کسی نسلی وابستگی کا نہیں بلکہ سیاسی مصلحت اور حالات کا عکاس تھا۔

اگر مجسمے کی تنصیب یا تنسیخ واقعی حکومتی سطح پر ہوئی ہے تو یہ افسوس ناک ہے کہ تاریخی معاملات کو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔ جس سے غیر ضروری تنازع نے جنم لیا۔ ذرا وہ عبارت ملاحظہ ہو جو دینہ میں سلطان سارنگ خان گکھڑ کے مجسمے پر درج ہے :

ضلع جہلم پنجاب دی اوہ مقدس دھرتی اے جس نے بہادری، غیرت تے جرت نال پنجابی قوم دا سر ہمیشہ فخر نال بلند رکھیا۔ ضلع جہلم ہر دور اچ ماں دھرتی پنجاب تے آپنڑی پنجابی قوم دی حفاظت لئی شہید تے غازی پیدا کردا رہیا اے۔ جو قوم تے وطن دی حفاظت لئی ڈٹ کے کھڑے ہوئے۔ سلطان سارنگ خان گکھڑ راجپوت پنجاب دے اوہ عظیم سلطان سن جنہاں پنجاب دی آزادی تے آپنڑی پنجابی قوم دی عزت لئی میدانِ جنگ وچ اپنے سولہ پتراں سمیت بہادری تے جرت نال شہادت قبول کیتی۔ پر کسے افغانی لٹیرے دا تسلط قبول نا کیتا۔ اج وی جہلم دی مٹی ایہ پیغام دیندی اے کہ پنجابی غلامی قبول نہیں کردے۔ اسیں مڈھ توں ہی سلطان آں۔ جیوے پنجابی قوم جیوے پنجاب وسے سوہنڑا پاکستان

ترجمہ: ”ضلع جہلم پنجاب کی وہ مقدس دھرتی ہے جس نے بہادری، غیرت اور جرات کے ساتھ پنجابی قوم کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھا۔ ضلع جہلم ہر دور میں ماں دھرتی پنجاب اور اپنی پنجابی قوم کی حفاظت کے لیے شہید اور غازی پیدا کرتا رہا ہے، جو قوم اور وطن کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ سلطان سارنگ خان گکھڑ راجپوت پنجاب کے وہ عظیم سلطان تھے جنہوں نے پنجاب کی آزادی اور اپنی پنجابی قوم کی عزت کے لیے میدان جنگ میں اپنے سولہ بیٹوں سمیت بہادری اور جرات کے ساتھ شہادت قبول کی، لیکن کسی افغانی لٹیرے کا تسلط قبول نہیں کیا۔ آج بھی جہلم کی مٹی یہ پیغام دیتی ہے کہ پنجابی غلامی قبول نہیں کرتے۔ ہم ازلی سلطان ہیں۔ زندہ باد پنجابی قوم، زندہ باد پنجاب، خوبصورت پاکستان زندہ باد۔

سرکاری مونوگرام اور چیف منسٹر مریم نواز کی تصویر کے ساتھ اس پلیٹ پر درج عبارت ”افغانی لٹیرا“ جیسے الفاظ کے ذریعے نسلی تعصب کو ہوا دے رہی ہے اور ”اسیں مڈھ توں ہی سلطان آں“ کی مبالغہ آرائی سے جدید قوم پرستی کی تجدید کر رہی ہے۔ پندرہویں صدی کے سیاسی پیکار کو آج کی نسلی شناختوں کے پیمانے سے ناپنا علمی طور پر درست نہیں اور سرکاری سطح پر ایسی زبان ملکی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ پورا معاملہ مریم نواز کے بیوٹیفیکیشن پروجیکٹ کے تحت شروع ہوا۔ دینہ کی انتظامیہ نے پہلے شیر شاہ سوری کا مجسمہ نصب کیا، پھر مقامی دباؤ پر اسے ہٹا کر سارنگ خان کا مجسمہ متنازع عبارت کے ساتھ لگا دیا۔ اگر مجسمہ تبدیل کرنا ہی تھا تو شیر شاہ سوری کو قلعہ رہتاس کے باہر نصب کیا جا سکتا تھا۔ مریم نواز کو یہاں ایک بالغ سیاست دان کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔ ان سے توقع تھی کہ وہ مقامی جذبات کی ترجمانی کی بجائے انہیں صحیح سمت دیں گی۔ لیکن اس معاملے میں نہ ان کا عمل کسی ذمہ دار حکومتی سربراہ کے شایانِ شان نہیں رہا۔

بہتر ہے کہ شیر شاہ سوری اور سلطان سارنگ خان دونوں کو ان کے عہد، سیاسی تناظر اور تاریخی کردار کے مطابق سمجھا جائے۔ یہ محض دو شخصیات کا تنازعہ نہیں، بلکہ ہماری تاریخ فہمی کا امتحان ہے۔ اس کے لیے ہمیں تعصب کی بجائے تحقیق کو معیار بنانا چاہیے اور نسلی و علاقائی بنیادوں پر بڑھی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لیے فوری اور موثر کوشش کرنی چاہیے۔

اس واقعے نے گلزار کی جنم بھومی دینہ کی تہذیبی لطافت کو دھندلا سا دیا ہے۔ وہی دینہ جسے گلزار نے اپنی یادوں میں پکھراج کے چاند اور پشمینے کی راتوں کی نرمی سے آباد کیا تھا، آج وہاں سے نفرت کے لہریں اٹھ رہی ہیں۔ کاش جہلم کی لہروں میں تہذیب کی روانی باقی رہے اور نالہ گھان تعصب کی آلودگی سے پاک رہے۔ شہروں کی شناخت نفرت سے نہیں، روایت، مکالمے اور باہمی احترام سے محفوظ رہتی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب، 20 فروری 2026ء)

بدھ، 18 فروری، 2026

0 تبصرے

 

گکھڑ، پٹھان اور پنجاب—   درست  تناظر

 طویل غیر حاضری کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ تحقیقی کام میں اس قدر مصروف رہا کہ سوشل میڈیا سے کٹ کر رہ گیا۔ کام ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن آج جہلم میں شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹانے اور سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کرنے سے متعلق پوسٹیں دیکھیں تو افسوس ہوا کہ ایک تاریخی معاملے کو پٹھان اور پنجابی کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ اس بحث کو تعصب سے نکال کر علمی سطح پر لانے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اہلِ علم اس سلسلے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

 میرے خیال میں موجودہ صورتِ حال میں اکبرنامہ کا ایک حوالہ اس بحث کو درست  تناظر دینے کے لیے کافی ہے۔ ضرورت پڑی تو دیگر حوالہ جات بھی پیش کر دیے جائیں گے۔

اکبرنامہ میں درج ہے:

زپوشیدہ نماند کہ گگران را طوایف بسیار است و در مابین آب بہت و سند توطن دارند۔ در زمان سلطان زین الدین کشمیری ملک کد نام از امرای غزنین کہ بہ حاکم کابل نیبتی داشت – آمدہ بزور اینجا را از تصرف کشمیریان گرفت(ابوالفضل، اکبرنامہ،جلد اول،  غلام مرتضی طباطبائی، تحقیقات فرہنگی، تہران،1372ھ، ص 477)

ترجمہ : یہ بات پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ بہت (جہلم) اور سندھ کے درمیان رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد جو غزنی کے امرا میں سے تھا اور جو حاکم کابل کا رشتہ دار تھا، نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔

 اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خطہ صدیوں سے مختلف طاقتوں اور قبائل کے باہمی تعامل کا میدان رہا ہے۔ یوں گکھڑ اور سوری دونوں  کا تعلق ایک ہی خطے  یعنی افغانستان سے ہے۔ دونوں قبیلے تقریباً ایک ہی دور میں یہاں آئے — وہ دور جب پہلی مرتبہ پٹھانوں (لودھی خاندان) کو دہلی کی تخت و تاج نصیب ہوا اور انہوں نے، عباس خان سروانی کے بقول  افغانستان سے لوگوں کو ہندوستان میں آباد ہونے کی ترغیب دی:


 عباس خان سروانی، تاریخ شیر شاہی، مترجم مظہر علی ولا خان، 1963ء، سلمان اکیڈمی، کراچی، صفحہ 8 اور 9

 شیر شاہ سوری کا دادا ابراہیم خان سوری اسی لودھی دور میں افغانستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا، بالکل اسی طرح جیسے ملک کد غزنی سے آ کر 'چانہ بنیر' میں آباد ہوا۔ان کے علاوہ  اس دور میں دیگر  افغان قبائل کی بڑی تعداد برصغیر آئی اور مقامی سماج کا حصہ بنی۔ وقت کے ساتھ یہ گروہ اسی معاشرتی ساخت میں ضم  ہو گئے ۔  اس خطے کی شناخت کی تشکیل میں سب نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس تاریخی عمل کو سادہ خانوں میں تقسیم کرنا یا موجودہ شناختوں کی بنیاد پر ماضی کو پرکھنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

 اس لیے گزارش ہے کہ اس مباحثے کو جذباتی ردِعمل کے بجائے تاریخی شعور کے ساتھ دیکھا جائے، تاکہ یہ تنازع ، تاریخ فہمی کا ذریعہ  بن سکے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مشترکہ ورثے پر فخر کریں، نہ کہ ایک دوسرے کو غیر ملکی ثابت کرنے میں لگے رہیں۔




جمعہ، 6 فروری، 2026

کہوٹہ کا ’’علی گڑھ ‘‘

0 تبصرے

  

گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ  کی ''لال عمارت'' کے جشن صد سالہ (1926-2026) کے حوالے سے خصوصی تحریر

’’ ککسٹ‘‘ اور ’’ کے آئی ٹی  ‘‘کے درمیان واقع  گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ اپنی شاندار عمارت اور تاریخی حیثیت کے باعث ممتاز مقام کا حامل ہے۔ کہوٹہ میں تعلیم کی اولین علامتوں میں سے ایک یہ تاریخ ساز ادارہ بذات خود ایک تاریخ ہے۔ یہ’’ لال‘‘ اسکول اب بہت سے نیلے پیلے اسکولوں میں گھرا ہوا ہے لیکن اپنی وسعت، اٹھان، دلکشی اور پائیداری میں لاثانی ہے۔ اس کی آتشیں اینٹوں سے دھیان لاہور سے ہوتا ہوا لال قلعہ دہلی سے جا ٹکراتا ہے۔ اس بلڈنگ کو پوٹھوہار کے نصف کوہسار کا علی گڑھ کہیں تو غلط نہ ہو گا۔

 کلر روڈ سے سکول میں داخل ہوں تو فلک بوس سرو، گلاب قامت مورپنکھ، متناسب روشیں، شاداب لان اور ان کے اطراف میں آتشیں اینٹوں کی ابھرتی  ہوئی سرخ عمارت نے منظر کو دل آویز بنا دیا ہے۔

  سکول کے صدر دروازے کے سامنے گھنے برگد کے ایک ڈال کے ساتھ گھنٹی بندھی ہے۔ سن چھبیس سے سنتالیس تک یہاں یونین جیک اور سنتالیس سے سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔ یہیں صبح اسمبلی ہوتی ہے۔

 U شکل کی اس عمارت کا رخ جنوب کی طرف ہے۔ اسکول کی مرکزی عمارت طرزِ تعمیر کا دل کش نمونہ ہے۔ قلعہ نما دیواریں، بلند و بالا چھتیں، کشادہ کمرے اور دو طرفہ دریچے اپنی مثال آپ ہیں۔ برآمدوں کی محرابی راہداریاں اس سکول کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں۔ ایک صدی سے، اس پرانی عمارت میں ہر سال ایک نئی نسل داخل ہوتی رہی۔ اس کی زندگی کے راستے ان راہداریوں میں متعین ہوئے اور اس اسکول کی فیض بخش فضاؤں نے ان کی آئندہ زندگی کو تابندگی بخشی۔


ایک زمانہ تھا جب یہ اسکول کوٹلی سے کلر تک تعلیمی فضیلت کا واحد مرکز تھا۔ چونکہ دور دراز سے اسکول پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی اس لیے اسکول کے بالائی منزل بورڈنگ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔

 تعلیمی اداروں کا ماحول نونہالوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ان کی تعمیر میں عظمت اور دل کشی کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔  گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول  کی عمارت اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس  کا ماحول فضائیں  انتہائی  دلکش اور خوشگوار ہیں۔ یہ تاریخی ادارہ ہماری ملی قدروں کا محافظ ہے۔ برآمدے کی دیواروں پر اقوالِ زریں اور منتخب اشعار لکھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ بچوں کی خدا داد صلاحیتوں کو جگمگانے اور انہیں اعلی اخلاق سے مزین کرنے میں مگن ہیں۔ برآمدوں میں لگی طلبہ اور اساتذہ کی گروپ تصاویر نے سکول کے نظارے کو منفرد بنا دیا ہے اور اسے انہیں دیکھ کر من میں یاد کی چنبیلی مہکنے لگتی ہے۔  

  کبھی یہاں پر ٹاٹ، تختی، کانے کے قلم اور سلیٹ کا چلن تھا لیکن اب کی بورڈ، ماؤس اور ٹچ کی تربیت کے لیے آئی ٹی لیب موجود ہے۔ اسکول کی سائنس لیبارٹری قابلِ رشک ہے۔ اتنے جدید اور قیمتی آلات کم ہی لیبارٹریوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ  ادارے کی لائبریری کو بھی  فعال بنا دیا گیا ہے۔

گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول  کہوٹہ تحصیل کے ایجوکیشنل سسٹم میں نیوکلیس کی حیثیت کا حامل ہے۔ ٹیچرز ٹریننگ، حج ٹریننگ، الیکشن ٹریننگ، کمپیوٹر ٹریننگ، تحصیل بھر کے لیے کتابوں کا اجرا، اوپن یونیورسٹی کے جملہ کورسز اور کھیلوں کے مقابلوں کا مرکز ہے۔ 

اسکول کی شمالی سمت ایک وسیع و عریض میدان ہے۔ تحصیل کی سطح کے کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلوں کی میزبانی کا شرف بھی اسی گراؤنڈ کے حصّے میں آتا ہے۔ شام کے اوقات اور چھٹی کے دنوں میں شہر بھر سے کھیلوں کے شوقین یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔

 سکول کی جنوبی سمت مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والے کلاس رومز ہیں۔ 1990 میں جناب کرنل محمد یامین ستّی نے سائنس روم کا افتتاح کیا اور دسمبر 2012 میں جناب شاہد خاقان عباسی نے 5 کمروں کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ ایک خوبصورت مسجد ہے جسے الحاج فضل الہی صاحب کے تعاون سے نئے سرے سے تعمیر کروایا گیا اور اس کا ایک دروازہ اہل محلہ کی سہولت کے لیے مین روڈ کی طرف کھلتا ہے۔

 اس ادارے کے چھبیسویں سربراہ جناب ناظم قمر کا پندرہ سالہ دور ایک روایتی سرکاری سکول کو ایک باوقار دانش گاہ میں بدلنے کی تخلیقی جدوجہد سے عبارت تھا۔ انہوں نے سکول کی تعمیر کے لیے بننے والے اینٹوں کے بھٹے کی باقیات کی جگہ ایک ہال اور دوخوبصورت لان بنوائے۔ جن کے وسط میں طشت نما گملے اور اطراف میں رنگ برنگے گلاب لگوا کرسکول کے استقبالیہ تاثر کو دل آویز بنایا۔سکول کے برآمدوں  اور فرنٹ وال کو معیاری اقوال و اشعار سے مزین کیا۔ اور برآمدوں میں ایسی تصاویر آویزاں کیں کہ آج بھی ان سے نگاہ نہیں اٹھتی۔

 سرکاری سکول ایک مدت تلک بچوں کے لیے خوف کی علامت رہے۔ ڈانٹ ڈپٹ، مولا بخش، رٹا، کان پکڑانا، مرغا بننا، جرمانہ، جسمانی سزائیں معمول رہا۔ اب مار کے بجائے پیار کا سلوگن چل رہا ہے۔ اس کے باوجود بچے چھٹی کی گھنٹی کے لیے ترستے   رہتے ہیں۔ 

ادارے کی سو سالہ تکمیل گورنمنٹ گریجویٹ کالج کے لیے بھی خوشی اور جشن کا تقاضا کرتی ہے۔ 1964ء میں یہیں انٹر کالج کے کلاسز شروع ہوئیں۔ 1980ء میں انٹر کالج لنگ ندی کے کنارے منتقل ہو گیا۔ اب ہائی اسکول، ہائر سیکنڈری اسکول اور انٹر کالج گریجویٹ کالج بن چکا ہے۔

سکول کی تاریخ کے اس یادگار موقع پر، اس کے پرنسپل جناب سید ضمیر حسین شاہ، ادارے کے باوقار اساتذہ اور نونہالوں کو دلی مبارک باد۔ نیز ان لاکھوں سابق طلبہ کو بھی، جن کی زندگیوں کو تابندگی بخشنے والی فیض بخش فضاء یہیں سے ملی۔

 زمانے کی دھوپ، بارشوں اور زلزلوں نے اس عمارت کو گھائل کر دیا ہے۔ یہ  تاریخی ورثہ اب ہماری توجہ چاہتا ہے۔ یہ محض اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ اہل کہوٹہ کے جذبوں اور  یادوں کی یادگار ہے۔لال عمارت کے سو برس کی تکمیل کے اس تاریخی موقع پر ہر صاحبِ دل سے اپیل ہے کہ وہ  کہوٹہ کے اس  ’’ علی گڑھ‘‘ کی حفاظت کے لیے آگے آئے، تاکہ اس زندہ تاریخ کو تابندہ بنایا جا سکے۔ 



پیر، 14 اپریل، 2025

جاوید احمد - سکوتِ شب کا نقیب

0 تبصرے


جاوید احمد - سکوتِ شب کا نقیب

( 14اپریل 2024ء -جاوید احمد کی پہلی برسی کے موقع پر)



کبھی کبھی کوئی ستارہ یوں چمکتا ہے کہ مقدر کا در کھل جاتا ہے،  تخلیق کی روشنی اترتی ہے، اور لفظ    نگینوں کی طرح جگمگانے لگتے ہیں۔ایسی ہی ایک ساعتِ سعید میں، کہوٹہ کے سرسبز کوہسار کی ایک سربلند چوٹی — سوڑ — پر،  ایک عاشقِ اقبال، محمد اقبال کے ہاں ایک ستارہ نمودار ہوا۔ فرزندِ اقبال کے نام پر اس کا نام "جاوید" رکھا گیا، اور پھر یہ جاوید... جاوداں ہو گیا۔

  جاوید احمد کی شاعرانہ جبلّت فطرت کی گود میں پروان چڑھی، مگر اس کی سمت منفرد تھی۔ جہاں  پرندے پالنے کی روایت تھی، وہاں انہوں  نے لفظوں کی پرورش کی — اور پھر لفظ ان  پر نثار ہو گئے  ؎

لفظ وہ پرندے ہیں، پیار اُسی سے کرتے ہیں
جس نے ان کو رکھا ہے، جس نے ان کو پالا ہے

ان  کی نگاہ نے اوروں کی طرح صرف فطری مناظر کو نہیں دیکھا، بلکہ انہیں سماج سے ہم آہنگ کیا؎

آسماں پر لمبے چکر چیلوں کے
اور زمیں پر دائرے تنگ فصیلوں کے

البتہ سپہ گری کی روایت برقرار رہی۔ لیکن عسکری  ڈسپلن ان کی شاعرانہ طبیعت پر بار تھا۔اس لیے  اسی کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی جائن کر لیا۔ گویا سوڑ کی  یہ تخلیقی آبشار تخلیق کے سمندر سے جا ملی۔

کراچی ریڈیو ان دنوں سارہ شگفتہ، فاطمہ حسن، حمایت علی شاعر، منظر ایوبی اور امید فاضلی جیسے دانشور تخلیق کاروں کا مرکز تھا۔ مزید جاننے کی جستجو  انہیں ' اردو کالج' لے گئی،  جہاں انہیں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، ابوالخیر کشفی اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری جیسے عہد ساز اساتذہ سے اکتساب کا موقع ملا۔ کالج کے بہترین شاعر کے انتخاب کے لیے طرحی مشاعرہ ہوا۔ مصرع طرح تھا:"کہہ رہا ہے موجِ دریا سے کنارہ شام کا"، جب جاوید احمد گویا ہوئے تو گویا جاوداں ہو گئے؎ 

لے گئے وہ ساتھ اپنے حُسن سارا شام کا
ہجر کی تصویر ہے اب ہر نظارہ شام کا
لوٹ کر وہ شام سے پہلے ہی گھر آنے لگے
ان سے شاید چھن گیا کوئی سہارا شام کا

کراچی میں ان دنوں اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی قمر جمیل صاحب  کے حلقے کا شہرہ تھا۔اسی حلقے سے جاوید احمد کی جاودانی کا سفر شروع ہوا۔ ان کی  شعر فہمی نے نئی کروٹ لی اور درد، آرائشِ فن کی بنیاد ٹھہرا۔ لفظ منشور بنے اور خیال کی دھنک ان میں جھلملانے لگی۔ ان کا کلام قمر جمیل صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والے اردو کے رجحان ساز مجلے "دریافت" کی زینت بننے لگا۔

 جاوید احمد میں  آہنگ کی طرف قدرتی لپک تھی۔ سوڑ، پوٹھوہار کے مشرقی کوہستانی سلسلے کے ان مقامات میں سے ایک  ہے جہاں سیلانی مجذوب بری امام کی بیٹھکیں ہیں۔ ایک زمانے سے یہاں نوبت بج رہی تھی، لیکن یہ صدا جاوید احمد کی سماعتوں کی بجائے دل کے پردے پر دستک دینے لگی؎

چوبکِ سوختہ رہی نوبتِ بے صدا کے پاس
جل کے کرشمہ ساز نے مجھ کو گدازِ فن دیا


  ریڈیو پاکستان کراچی  میں مہدی حسن کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر نے انہیں  سروں کے اسرار سے آشنا کیا، تو آواز وجد آفریں ہو گئی۔  مشاعروں میں تحت اللفظ  کے بعد  ترنم سے غزل سناتے تو وقت ٹھہر جاتا۔ خصوصاً یہ غزل جس میں پیچیدہ انسانی  نفسیات کے دلکش اظہار  کو ان کی آواز نے امر کر دیا؎

بکھرنا، ٹوٹنا بھی اور انا کے ساتھ بھی رہنا
ستم ایجاد بھی کرنا، وفا کے ساتھ بھی رہنا


سوڑ کے اس ستارے نے 1990ء میں دبئی میں سخن کی کہکشاں کو جا لیا۔ "جشنِ جون ایلیا" میں جاوید احمد کا کلام سنا نہیں محسوس کیا گیا؎

 اپنی   وحشت لیے جا کہیں اور جا، دل مرا چھوڑ دے
اے شبِ روسیاہ، میرے مہتاب کا راستہ چھوڑ دے

1993ء میں حکومتِ پاکستان کے نمائندہ شاعر کی حیثیت سے بھارت کا دورہ کیا۔ جہاں درِ  غالب پر حاضری کی ان کی دیرینہ حسرت پوری ہوئی۔


 کراچی کے بعد پشاور اور راولپنڈی سے ہوتے ہوئے جب وہ کہوٹہ واپس آئے تو  وہ جاوداں ہو چکے تھے۔  کہوٹہ جسے عبدالقدیر خان نے جوہری شناخت دی، جاوید احمد نے اسے فکری، ادبی اور شعری شناخت عطا کی۔ اور  کہوٹہ کو ملک گیر ادبی منظرنامے پر لا کھڑا کیا۔

 ان کا پہلا شعری مجموعہ مثال 1997ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کا عنوان ممتاز شاعرہ ثمینہ راجہ نے جاوید احمد کے ایک خوبصورت شعر سے متاثر ہو کر تجویز کیا؎

لمحہ لمحہ ترے خیال میں ہے
زندگی عالمِ مثال میں ہے

 یہ عنوان نہ صرف شعری فضا کا آئینہ دار ہے بلکہ جاوید احمد کے تخلیقی مزاج، جمالیاتی وژن اور وجودی اسلوب کو بھی نہایت خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔

مثال کو  اردو دنیا کے مقتدر شعرا نے نہایت پذیرائی بخشی۔ وزیر آغا نے ان کی غزل کو سمندر کی گہرائیوں سے ابھرنے والی اس موج سے تشبیہ دی جو بگڑتی کم، بنتی زیادہ ہے۔ رشید امجد نے ان کی شاعری کو روایت، رچاؤ اور جدید حسیت کا حسین امتزاج قرار دیا۔ جلیل عالی کے نزدیک جاوید احمد ایک "جینوئن اور مشکل شاعر" ہیں، جو بہت سی سمتوں کا مسافر ہے۔اختر عثمان نے لکھا کہ جاوید احمد نے روایتی لفظوں کو روایتی مضمون میں استعمال کرنے کی بجائے لفظوں کے نئے کنگرے دریافت کیے ہیں۔ جب کہ افتخار عارف نے ان کے اشعار میں رس، نرمی اور مٹھاس کی آمیزش کو ان کا طرۂ امتیاز کہا۔ ظفر اقبال نے انہیں جدید غزل کے اسلوب و امکانات میں حیرت انگیز اضافہ کرنے والا شاعر قرار دیا۔ ان آرا سے جاوید احمد کی فکری گہرائی، فنی انفرادیت اور شعری امتیاز کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

کشمیر کی تحریکِ آزادی کے باب میں جاوید احمد شعری محاذ پر ہر اول دستے کے سالار تھے۔ 2001ء میں کشمیر پر ان کی کتاب "اے دنیا کے منصفو!" منظر عام پر آئی۔جس پر انہیں صدارتی ایوارڈ ملا۔ ان کی نظم 'اے دنیا کے منصفو!' نے  مسئلہ کشمیر کو عالمی ایوانوں تک پہنچایا۔ رخسانہ مرتضیٰ اور حنا صدیقی نے اسے گایا تو یہ نظم تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ترانہ بن گئی؎

 اے دنیا کے منصفو!
سلامتی کے ضامنو!
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو!

ادب، سیاست، مذہب، تصوف اور فلسفہ سے انہیں خاص شغف تھا، اور یہی دلچسپیاں ان کی شاعری کے فکری پس منظر میں جھلکتی ہیں۔ 2016ء میں ان کا شعری مجموعہ "مٹی کا شجر" شائع ہوا۔ جب وہ کہتے ہیں کہ "نرالی میری خوشبو ہے، میں مٹی کا شجر ہوں"—تو یہ صرف ایک سطر نہیں، بلکہ خاکی انسان میں پنہاں اس کی وجودی، اساطیری اور فلسفیانہ معنویت کا استعارہ ہے۔

غزل جاوید احمد  کا بنیادی حوالہ تھی۔2020ء میں ان  کی غزلیات کا انتخاب "ایک پردہ سخن سے آگے ہے"  دلاور علی آذر نے  شائع کیا۔


اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے  ' پوٹھوہاری' میں بھی کلام تخلیق کیا۔ یہ کلام مصری  کی ڈلیوں اور  بیری کے شہد کی طرح میٹھا اور رسیلا ہے؎

اپنڑی اپنڑی سب پے بانڑے، تو وی تے کج بول یرا
چپ تروڑ تے سامنڑے آ، ہونٹاں نے جندرے کھول ذرا

6 اپریل 2024 کو ان کی سالگرہ کے موقع پر کہوٹہ کے ادب دوست  ان کے گرد حلقہ کیے بیٹھے تھے۔ نقاہت  بہت بڑھ چکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ گھنٹوں باتیں کرتے اور کلام سناتے رہے۔۔۔دس دن بعد، 14 اپریل کو، حیاتِ جاوید پا گئے؎

ڈوبتے جا رہے ہیں لوگ اس میں
یہ زمیں خاک کا سمندر ہے

 ان کی غیر مطبوعہ غزلوں کے مجموعہ"وارفتہ" پر جاوید احمد کے مستقل  حلقہ نشین حسیب علی، عدنان نصیر اور حسن ظہیر راجہ کام کر رہے ہیں، جو بہت جلد منظرِ عام پر آ جائے گا۔ کیا اچھا ہو کہ لگے ہاتھوں  اس جاوداں شخصیت کی انمول یادوں کو بھی محفوظ کر لیا جائے۔


 بلاشبہ جاوید احمد بطور شخص اور شاعر سدا بہار ہیں۔ ان کا آفاق گیر کلام ہی لوگوں کے دلوں پر ثبت نہیں ہوا، ان کی وجد آفریں آواز کی حاکمیت بھی دائمی ہے۔ٖ ان کی ایک بڑی  خوش نصیبی یہ بھی ہے کہ  ان کے فرزند حسن جاوید اور شعری ورثے کے امین حسن ظہیر راجہ، جاوید احمد کے خوابوں کی تعبیر دینے  کا ذوق، ظرف، فراست اور ولولۂ تازہ  رکھتے ہیں۔ بہت جلد "کہوٹہ لٹریری سوسائٹی" اردو کے شعری افق پر نئی آب و تاب سے جلوہ گر ہو گی۔ ان شااللہ تعالی !!

ہفتہ، 4 فروری، 2023

جولیاں جائے تعلیم نہیں تھی

0 تبصرے

جولیاں جان لیوا نام ہے۔اسے سنتے ہی  دھیان ہم جولیوں سے ہوتا ہوا، مرادوں بھری جھولیوں کے طرف چل نکلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ٹیکسلا جب شاہ ڈھیری کہلاتا  تھا۔۔۔ تو  ان دنوں ا س ڈھیری کو  جائے ولیاں کہا جانے لگا جو وقت کے ساتھ  جولیاں ہو گیا۔اس جگہ کا اصل نام   کیا ہے؟ اس  حوالے سے تاریخ۔۔۔ جولیاں کی  اس خانقاہ کی طرح خاموش ہے۔

مقامی زبان میں جا جگہ کو کہتے ہیں، جائے ولیاں فارسی ترکیب ہے،  جولیاں  اورگریکو رومن  نام جولیان میں ایک نقطے کا فرق ہے۔ٹیکسلا شہر کی طرح    اس پہاڑی  خانقاہ کے نام میں بھی کئی  تہذیبیں جھلکتی ہیں۔

پنجاب و پختون خواہ کے سنگم پر واقع  اس ڈھیری  کو بجا طور پر جائے ولیاں یعنی سیٹ آف سینٹس کہا گیا ہے کہ صوفی، سنت، سادھو ، جوگی اور بھکشو ایسے ہی ویرانے پسند کرتے ہیں ۔ کَپِل وَستُو  کی روشنی نے  ہزاروں چوٹیوں کو  چمکایا  لیکن جو چمک جولیاں کے حصے میں آئی وہ کم کم چوٹیوں کو نصیب ہوئی۔ اس کا شمار ٹاپ ٹورسٹ ڈسٹینشنز میں ہوتا ہے۔ مہاتما گاندھی سے لے کر پرنس  چارلس تک  ایک دنیا یہاں آ چکی ہے۔بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے تو یہ کسی جنت سے کم نہیں ہے۔ اہل علم   کی اکثریت یہاں آتی ،  اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی اور  اپنی خوشی اور عقیدت کا اظہار، ٹویٹس،  وڈیوز، آرٹیکلز اور تھیسز کی صورت میں کرتی ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے  اپنے تعلیمی و تفریحی ٹرپس  کے لیے   جولیاں کو بہترین انتخاب سمجھتے ہیں۔

ہم نے بچپن سے سن رکھا تھا کہ  جولیاں میں  دنیا کی پہلی یونیورسٹی   کے آثار ہیں۔ اس لیے  ہم نے جب جب  جولیاں کمپلیکس  میں قدم رکھا تو عقیدتاً  اس  کی خاک اپنے سر اور چہرے پر ملی۔

جولیاں کمپلیکس کے  دو حصے ہیں۔ پہلے  خانقاہ  ہے۔ جہاں  منتی اسٹوپوں پر   بدھا کی شبہیں ہیں۔ آرٹ ورک  اتنا شاندار ہے ۔۔۔کہ دل، دماغ، آنکھیں، قلم،   کیمرے سب  اس پر فِدا ہیں۔   بدھا کے چہرے کی مسکراہٹ کا تخیقی حسن نظر پتھرا اور دل پگھلا دیتا ہے۔ اب زیادہ تر مورتیاں ٹیکسلا میوزیم میں پڑی ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے صنم تراشوں نے عشق کو حیرت میں ڈال رکھا تھا۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اُس دور میں جولیاں، ٹیکسلا اور گندھارا کی  فضاؤں میں روحانی سرشاری کا کیا عالم ہو گا جب بے خودبھکشو مرادوں کی جھولیاں بھرنے دور دراز  مقامات سے  جولیاں آتے اور ان کا طواف کرتے تھے۔ شفا بخش بدھا کی ناف میں انگلی رکھتے ہی سر سے پاؤں تک مسیحائی کی تاثیرمحسوس کرتے تھے۔  رہی سہی  کمی قریبی ڈھیری سے مشت بھر خاکِ شفا سے نکل جاتی  تھی۔

جولیاں کی یہ خانقاہ کشانوں کی  معاشی اور تہذیبی خوشحالی کی آئینہ دار ہے۔  بدھا نے صرف راج گدی ہی نہیں تیاگی تھی، وشواس کے رنگین   پردے بھی  تار تار کر دیے تھے مگر مہایان نے بدھا کی  مدھم مارگم گچامی کی تعلیمات تیاگ کر اسے  بھگوان بنا دیا  ۔ اس کی مورتیاں اس کثرت سے بنوائیں کہ گندھارا میں  اب بھی زیر زمین ہزاروں مورتیاں دفن ہیں۔ بدھا نے  کہا تھا کہ ۔۔۔سروم دکھم ۔۔۔اور اس بے کراں دکھ سے نجات کےلیے راستی کے  ہشت اصول دیے ۔۔۔ لیکن   مہایان نے  نروان کی شاہراہ پر وشواش کے ریشمی پردے آویزاں کر دیے۔

کمپلیکس کے اگلے حصے میں ایک کورٹ یارڈ ہے۔ یہی وہ کورٹ یارڈ ہے جسے دنیا کی پہلی یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ آپ جیسے ہی خانقاہ سے اس کورڈ یارڈ میں قدم رکھتے ہیں تو بائیں جانب ایک مندر میں بدھا کو گیان دھیان میں ڈوبا ہوا پاتے ہیں۔ اس احاطہ میں تقریباً  26 کھولیاں، ایک تالاب اور ایک باتھ روم ہے۔ اتنے ہی کمرے دوسری منزل پر تھے جو گر چکے  ہیں۔ ہر کمرے میں دو طاق ہیں۔کورٹ یارڈ میں لگی تختی بتاتی ہے کہ ودیارتھی ایک میں دیپک اور دوسری میں پشتک رکھتے تھے۔ گندھارا  کی زیادہ تر  خانقاہوں کے آثار ایسے ہی ہیں۔ چھوٹے  اور سادہ کمرے۔ تمام کمروں کا ایک دروازہ جو صحن یا تالاب  کی طرف کھلتا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ کورٹ یارڈ  کے اگلے حصے میں  لائبریری، لیبارٹری اور اوبزرویٹری   وغیرہ کے آثار ہوں گے لیکن وہاں  کچن، کچن انچارج کا کمرہ، گودام، اناج پیسنے، پکانے، کھانے اور برتن دھونے وغیرہ کی جگہوں  کے آثار  ہیں۔

اس احاطہ میں  ایک  اسمبلی ہال بھی ہے۔ ایسے ہی  اسمبلی ہال    گندھارا کی  کچھ  اور   خانقاہوں  میں بھی ملتے  ہیں۔ ویساک اور دیگر اہم  موقعوں پر  جب زائرین مل کر ورد کرتے اور   گیت گاتے ہوں گے  تو جولیاں کی خاموشیوں میں طلسم بکھر جاتا ہو گا۔

بدھم شرنم گچھامی                                                      

دھمم شرنم گھچامی

سنگھم شرنم گھچامی 

مگر جدت پسند مہایان نے بھیڑ ماؤنڈ ، سرکپ اور سر سکھ کی بجائے اس  پہاڑی ویرانے میں یہ خانقاہ کیوں بنائی؟؟؟ ایسا اس لیے کیا گیا کہ ٹیکسلا ہمیشہ حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے۔ بھکشوؤں کی حفاظت کے پیش نظر خانقاہوں کے لیے ایسے  ویرانوں  کا انتخاب کیا گیا ۔اٹلی کے معرف آرکیالوجست ڈاکٹر لوقا ماریہ اولوویری کا حال میں ایک آرٹیکل منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے جولیاں سمیت بہت سی بدھسٹ سائٹس کو خانقاہیں اور پناہ گاہیں لکھا ہے۔

ٹیکسلا کا شمار گندھارا کے ان مقامات میں ہوتا ہے جہاں بدھ مت کا پھیلاؤ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اشوکا نے دھرما راجیکا سے بدھ زیارت گاہوں کی تعمیر کی جو شروعات کی تھی کشانوں نے اسے شاندار انداز میں آگے بڑھایا۔بعض زیارت گاہوں کے ساتھ زائرین کے لیے اقامت گاہیں بھی  تعمیر  کی گئیں۔جولیاں بھی ایک ایسی ہی اقامتی  خانقاہ  دکھائی دیتی ہے۔الیگزینڈر کنگھم  نے سروے آف انڈیا   اور  جون مارشل نے گائیڈ ٹو ٹیکسلا میں اسے خانقاہ  ہی لکھا ہے۔

راولپنڈی گزیٹیئر 1893-94 کے مطابق ''جاولی کی قدیم باقیات پانچ خستہ حال سٹوپوں اور دو مندروں میں مشتمل ہیں۔ ان سبھی پر تحقیق کی جا چکی ہے مگر قابل قدر نتائج سامنے نہیں آئے''۔

ٹیکسلا کے دیگر مقامات کی طرح جولیاں کی اس  خانقاہ   بھی 1980 میں ورلڈ ہیریٹیج سائٹس میں شامل کر لیا گیا۔یہاں لگا   یونیسکو کا معلوماتی   بورڈ بھی  اسے خانقاہ ہی بتاتا ہے۔اگر آپ ٹیکسلا سے جولیاں کا سفر کریں تو  آپ کو راہنمائی کے لیے لگائے گئے بورڈز پر  آثار قدیمہ جولیاں یا جولیاں خانقاہ  ہی لکھا ہوا ملے گا۔

    ڈاکٹر احمد حسن دانی  کی ہسٹورک سٹی آف ٹیکسلا  کے مطابق  جولیاں  بدھ زائرین کی آرام گاہوں یا میٹنگ پوائنٹس میں سے ایک تھی جو مختلف ممالک سے یہاں تک کا سفر کرتے اور مانسہرہ سے مانکیالہ کی زیارتوں پر حاضری دیتے تھے ۔ڈاکٹر  دانی نے یہاں سے ملنے والے نَوادِرات کے جو تفصیل دی ہے اس میں سکّے، صراحیاں، چینکیں، کٹورے، مرتبان کے ڈھکن، زیورات، انگوٹھیاں اورہار وغیرہ شامل ہیں۔اس فہرست میں ایک دوات بھی  ہے۔ اس بنیاد  پر آپ اسے اسکول، کالج،  یونیورسٹی، آشرم، پاٹ شالا  یا وشوودیالہ کا درجہ دینا چاہیں تو جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی  کہ ایک خانقاہی  سرائے میں کوئی درسگاہ نہیں ہو سکتی ۔۔۔بلکہ اصل بات  یہیں سے شروع  ہوتی ہے کہ آخر دنیا کی قدیم ترین درسگاہ   اس سرائے  سے منسوب کیسے ہوئی؟ اگر دنیا کی پہلی  یونیورسٹی یہاں نہیں   تو  پھر ٹیکسلا میں کس جگہ تھی؟ تھی بھی یا نہیں؟  اگر تھی تو پھر   وزٹرز۔۔۔ ''کہاں ہے، کس طرف کو ہے ،کدھر ہے'' ۔۔۔کی تصویر کیوں بنے ہوئے ہیں؟   یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات کے جوابات کے لیے دیکھیے ہمارا اگلا آرٹیکل : '' تکشاشیلا  یونیورسٹی :  اک کہانی ہے اور کچھ بھی نہیں ''


اتوار، 26 دسمبر، 2021

ساعی

0 تبصرے

 

 

کہوٹہ کلر روڈ پر نوگراں اور دکھائی کی درمیانی ندی  کراس کریں تو بائیں ہاتھ تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر صدیوں پرانا برگد ساعی کی نشان دہی کرتا ہے۔ جہاں سنتالیس اور وانا میں دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ایک شہید کی قبر ہے۔

 

اپر اور لوئر ساعی کا مجموعی رقبہ تقریباً 4 ہزار کنال پر مشتمل ہے۔ یہاں کی اصل آبادی ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر گئے۔ موجودہ آباد کاروں میں سے کچھ تو دو اڑھائی سو سال پہلے روات اور بیور وغیرہ سے آ کر یہاں آباد ہوئے اور بقیہ 47 میں شملہ، امرتسر اور کشمیر سے ہجرت کر کے یہاں آئے۔

 

گاؤں میں ایک تاریخی اسکول ہے۔ جس کے لیے جگہ 1851ء میں "رام جی" نے دی۔ شروع میں یہ تین کمروں پر مشتمل تھا اور اس کی چھت لکڑی کی تھی۔ 1880ء میں یہ پرائمری، 1905ء میں لوئر مڈل اور 1917ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا۔ سن 47 سے 51 تک یہ سکول بند رہا اور سن 51 میں ماسٹر کالا صاحب نے اسے دوبارہ کھولا۔

 

گاؤں کے شمال میں'کس' کے قریب ایک پہاڑی پر 'عید گاہ' ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے دکھالی، کوٹ، نوگراں، بمبلوٹ، لس، کلاہنہ اور ڈھیری وغیرہ سے قافلے کلمہ طیبہ لکھے جھنڈے اٹھائے اور کلمے کا ورد کرتے اس عید گاہ کی طرف آتے تھے۔

 

ساعی کی حدود اس ندی تک ہیں۔ یہاں ایک چشمہ (ناڑہ) ہے۔ ساتھ ''خواجہ خضر'' کی بیٹھک  ہے جن  کے دم سے چشمہ جاری ہے۔ کے آر ایل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پانی کی ضروریات کے لیے کے آر ایل کے ماہرین کی ایک ٹیم نےتحقیق کی توپتا چلا کہ ساعی سے کافی اوپر 'دھنیام' کے مقام سے پانی کی رگیں نکلتی ہیں۔