بدھ، 25 فروری، 2026

تاریخ بمقابلہ بیانیہ: جرنیلی سڑک کا مقدمہ

0 تبصرے

سلمان رشید پاکستان کے ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ ٹریول رائٹر ہیں جنہیں بجا طور پر عصرِ حاضر کا ”لیونگ لیجنڈ“ کہا جا سکتا ہے۔ ان کی تصنیفات متنوع جغرافیائی خطوں، تہذیبی روایتوں اور تاریخی پرتوں کو اپنی تمام تر دلکشی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں محض سیاحت نہیں بلکہ تاریخ، جغرافیہ، ثقافت اور مقامی معاشرت کا عمیق مطالعہ جھلکتا ہے۔ اسی تسلسل میں وہ ”ایک مسافر کی دنیا“ کے عنوان سے یوٹیوب پر وی لاگ بھی کرتے ہیں۔ 

21 فروری کے ایک وی لاگ میں دینہ میں مجسموں کی تنصیب کے تناظر میں پنجاب کی تاریخی مرکزیت سے متعلق ایک بیانیہ پیش کیا گیا، جس میں بعض تاریخی حوالوں کو خاص زاویے سے استعمال کیا گیا۔ چونکہ سلمان رشید کی علمی و عوامی پذیرائی وسیع ہے اور ان کی آرا کو وقعت حاصل ہے، اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ زیرِ بحث نکات کو تاریخی شواہد اور منطقی ترتیب کے ساتھ پرکھا جائے، تاکہ علمی دیانت برقرار رہے اور اگر کسی مقام پر فہم کی لغزش ہو تو اس کی اصلاح بھی ممکن ہو۔

مذکورہ وی لاگ میں 300 قبل مسیح کی ’’اتراپاتھا‘‘ کو براہِ راست تاریخی تسلسل قائم کرتے ہوئے سولہویں صدی کی جرنیلی سڑک سے منسلک کرنے کا تاثر دیا گیا۔ وی لاگ کا مرکزی بیانیہ سلطان سارنگ خان اور شیر شاہ سوری کے تصادم کو مقامی بمقابلہ بیرونی کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی دہرایا گیا کہ شیر شاہ نے سارنگ خان کو گرفتار کر کے اس کی کھال کھنچوائی اور اس کی لاش کو قلعہ روہتاس کے دروازے پر لٹکا دیا۔ مجموعی طور پر وی لاگ کا تاثر یہ ہے کہ جرنیلی سڑک ، علاقائی تاریخ اور شخصیات کو مقامی شناخت کے زاویے سے ازسرِنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ذیل میں ہم اسی بنیادی استدلال سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں کہ آیا اتراپاتھا کا سولہویں صدی تک بلاانقطاع وجود تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

اس وی لاگ کا بنیادی استدلال چوتھی صدی قبل مسیح کی ’’اتراپاتھا‘‘ کو براہِ راست سولہویں صدی کی جرنیلی سڑک سے مربوط کرنا ہے۔ یہ استدلال تاریخی تسلسل کے اصولوں سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتا۔ تاریخ کا سفر سیدھی لکیر کی مانند نہیں ہوتا بلکہ یہ نشیب و فراز، اتار چڑھاؤ اور کبھی کبھار انقطاع کے مراحل سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اس لیے کسی بھی واقعے یا رجحان کو دیکھتے وقت ضروری ہے کہ اسے بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور تہذیبی سیاق میں سمجھا جائے، نہ کہ سادہ خطی تسلسل میں۔

تقریباً اٹھارہ سو برس کے زمانی فاصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے دو ادوار کو یکجا کر دینا علمی احتیاط کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ موریہ عہد میں چندر گپت موریہ کے زمانے میں شاہراہوں کا ذکر یونانی سفیر Megasthenes  نے اپنی کتاب ”انڈیکا“ میں کیا ہے، جہاں وہ انتظامی ڈھانچے اور شہری مراکز کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تاہم موریہ سلطنت کے زوال کے بعد شمالی ہند اور گندھارا کا خطہ بارہا سیاسی انتشار، جغرافیائی تبدیلیوں اور تہذیبی انقلابات سے گزرا، جس کے اثرات مواصلاتی نظام پر بھی مرتب ہوئے ہوں گے۔

اسی تناظر میں سولہویں صدی کی ایک مربوط اور منظم شاہراہ کا تصور؛ جس کے اطراف سرائیں، سنگِ میل اور ستون مستقل بنیادوں پر موجود رہے ہوں، مزید تاریخی تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ اس استدلال کی تائید میں لاہور کے گڑھی شاہو کے کوس مینار کو بھی قدیم شاہراہ کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو بادی النظر میں درست نہیں ہے۔ 

Megasthenes  کے بعد فاہیان، ہیون سانگ، البیرونی اور ابن بطوطہ جیسے سیاحوں کی تحریریں ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن ان میں کسی ایسی منظم شاہراہ کے واضح اور مسلسل نظام کا ذکر نہیں ملتا جسے قدیم اتراپاتھا سے بلاانقطاع منسلک کیا جا سکے۔

تاریخ کے سنگ میل: چندر گپت موریا ، شیر شاہ سوری ، اکبر اعظم ، جہانگیر

قدیم شہری مراکز کی مثال اس بحث کو مزید واضح کرتی ہے۔ Megasthenes  نے ٹیکسلا اور پاٹلی پتر کی غیر معمولی تعریف کی ہے، مگر بعد کے ادوار میں یہ شہر تاریخ کے پردے میں گم ہو گئے۔ انیسویں صدی میں کابل سے واپسی پر Mountstuart Elphinstone  دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے بیچ ٹیکسلا کی تلاش میں سرگرداں رہے، اور بعد ازاں Alexander Cunningham  نے چینی زائرین کے سفرناموں سے رہنمائی لے کر اس کے آثار دریافت کیے۔ جب ایسے عظیم شہری مراکز بھی وقت کی گرد میں دب گئے تو ایک شاہراہ کے بلاانقطاع اپنی اصل صورت میں قائم رہنے کا دعویٰ مزید ٹھوس شواہد کا متقاضی ہے۔

آٹھویں تا دسویں صدی کے شمال مغربی ہند کے بارے میں تاریخی ماخذ نسبتاً کم یاب ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق اس دور کی مذہبی و تہذیبی کشمکش نے قدیم یادگاروں اور شناختوں کو متاثر کیا۔ اشوک کے ستونوں کی مثال ہی لے لیجیے؛ صدیوں تک ان کے کتبے ناقابلِ فہم رہے، حتیٰ کہ  Prinsep James    نے 1837ء میں براہمی رسم الخط کو پڑھ کر ان کی نسبت شہنشاہ اشوک سے جوڑی۔ اس سے قبل خود برصغیر میں بھی ان کی اصل حیثیت واضح نہیں تھی۔ ایسے میں قدیم شاہراہ کے بعینہٖ برقرار رہنے کے دعوے کو مزید تحقیقی بنیادوں کی ضرورت ہے۔

ہماری اس بحث کا بنیادی مقصد تاریخی استدلال میں تسلسل اور ماخذات کی صحت کو پیشِ نظر رکھنا ہے۔ تاریخ کو معاصر شناختی بیانیوں کا ایندھن بنانا علمی دیانت کے منافی ہے، جبکہ صحت مند اختلاف علمی روایت کا حصہ ہے۔


 برٹش انڈیا: مسافر جی ٹی روڈ پر خچر پر سفر کرتے ہوئے

اسی تناظر میں اگر گفتگو شیر شاہ سوری تک پہنچتی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کے کارناموں کو ان کے سیاسی و انتظامی سیاق میں دیکھا جائے۔ ایک نسبتاً محدود پس منظر سے ابھر کر ہندوستان کی باگ ڈور سنبھالنے والے اس حکمران نے مالیاتی اصلاحات، زمینی بندوبست اور انتظامی تنظیم کے میدان میں نمایاں اقدامات کیے۔

یہ درست ہے کہ ان کی ذاتی حکومت محض پانچ برس (1540ء تا 1545ء) پر محیط تھی، مگر سوری اقتدار مجموعی طور پر تقریباً پندرہ برس (1540ء تا 1555ء) قائم رہا۔ بڑے تعمیراتی اور انتظامی منصوبے عموماً ایک فرمانروا کے عہد میں شروع ہو کر جانشینوں کے زمانے میں مکمل ہوتے ہیں۔ قلعہ روہتاس اسی کی مثال ہے، جس کا آغاز شیر شاہ نے کیا اور تکمیل سلیم شاہ کے عہد میں ہوئی، مگر نسبت اسی سے قائم رہی جس نے اس کی بنیاد رکھی۔

اس شاہراہ سے وابستہ نمایاں تاریخی ادوار میں موریہ، سوری، مغل اور برطانوی عہد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ موریہ دور کے بعد اس خطے میں شاہراہوں کے منظم اور ریاستی سطح پر مربوط نظام کے بارے میں شواہد محدود اور منتشر دکھائی دیتے ہیں۔ اس نسبتاً طویل تاریخی خلا کے بعد سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری کے عہد میں مواصلاتی ڈھانچے کو باقاعدہ ریاستی سرپرستی اور تنظیم حاصل ہوئی۔ سراؤں کے قیام، کوس میناروں کی تنصیب اور ڈاک کے منظم نظام نے اس شاہراہ کو نئی انتظامی معنویت دی۔ چنانچہ جرنیلی سڑک کا نام شیر شاہ سوری کے ساتھ منسلک ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ اس منظم ریاستی اقدام کی تاریخی یادگار ہے، جسے بعد کے مغل اور برطانوی ادوار نے بھی اختیار اور وسعت دی۔

    گرینڈ ٹرنک روڈ، بٹالہ، مشرقی پنجاب - 1930ء

قدیم راستوں کی موجودگی اپنی جگہ، مگر ان کی باقاعدہ مرمت، توسیع، سراؤں کا قیام، کوس میناروں کی تنصیب اور مربوط ڈاک کے نظام کی تشکیل ایک منظم ریاستی پالیسی کے بغیر ممکن نہ تھی۔ یہی وہ انتظامی جہت ہے جس نے اس شاہراہ کو محض ایک گزرگاہ کے بجائے سلطنتی ڈھانچے کی شہ رگ بنا دیا۔

شیر شاہ سوری کی سیاسی زندگی مختصر رہی اور اس کے جانشین انتظامی اور شخصی صلاحیت میں اس کے ہم پلہ ثابت نہ ہو سکے۔ سیاسی عدم استحکام کے بعد اقتدار دوبارہ مغلوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مغل عہد کی تاریخ نویسی نے فطری طور پر اپنی سلطنت کے تسلسل کو نمایاں کیا، جس کے نتیجے میں سوری عہد کی بعض تعمیراتی سرگرمیاں نمایاں طور پر محفوظ نہ رہ سکیں اور وقت کے ساتھ ان کی شناخت دھندلا گئی۔

لہٰذا اگر قدیم اتراپاتھا اور سولہویں صدی کی شاہراہ کے مابین براہِ راست اور غیر منقطع تسلسل ثابت کرنا علمی احتیاط کے منافی ہے، تو اسی طرح شیر شاہ سوری کے انتظامی کارنامے کو محض نسلی یا علاقائی شناخت کے تناظر میں کم تر دکھانا بھی تاریخی دیانت کے خلاف ہوگا۔ انصاف اسی میں ہے کہ ہم نہ تو ماضی کو حال کے تعصبات کا اسیر بنائیں اور نہ ہی کسی شخصیت کی قامت کو عصری بیانیے کی ضرورت کے مطابق گھٹائیں یا بڑھائیں۔ تاریخ کا احترام اسی میں ہے کہ اسے اس کے اپنے عہد، اپنے شواہد اور اپنے تناظر میں سمجھا جائے۔


کوس مینار، گڑھی شاہو، لاہور

تاریخ یا تعصب: تاریخ یا تعصب؟

0 تبصرے

 

جہلم میں شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹا کر سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کیے جانے کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی بے تدبیری کو سوشل میڈیا نے ’پٹھان بمقابلہ پنجابی‘ کی جنگ کا رنگ دے دیا ہے۔ جو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سامنے آ رہی ہے وہ ہمارے معاشرتی تانے بانے کو بکھیر سکتی ہے۔

تاریخ کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا ہمیشہ گمراہ کن تعبیرات کو جنم دیتا ہے۔ موجودہ بحث کو جس طرح پنجابی بمقابلہ پٹھان کا رنگ دیا جا رہا ہے، وہ اسی نا آشنائی کا نتیجہ ہے۔ اس تنازعے کو سمجھنے کے لیے اکبر نامہ کا ایک حوالہ ہی کافی ہے۔ ابوالفضل اکبر نامہ کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں :

یہ بات پوشیدہ نہ رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ بہت (جہلم) اور سندھ کے درمیان رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد جو غزنی کے امرا میں سے تھا اور جو حاکم کابل کا رشتہ دار تھا، نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔

اکبر نامہ 1590 ء میں منظر عام پر آیا۔ اس روایت کو بعد کے مؤرخین نے عمومی طور پر قبول کیا ہے۔ دستیاب مآخذات میں اس کی تردید نہیں ملتی۔ یوں دونوں کا تعلق ایک ہی خطے سے بنتا ہے اور دونوں اس وقت ہندوستان آئے جب پہلی بار پٹھانوں (لودھی خاندان) کو دہلی کا تخت ملا۔ عباس خان سروانی نے تاریخ شیر شاہی میں لکھا ہے کہ بڑے پیمانے پر افغانی قبائل کو ہندوستان آنے اور مراعات حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ سوری، گکھڑ اور دیگر قبائل اسی دور میں یہاں آئے اور مقامی معاشرے میں ضم ہو کر اس خطے کی نئی شناخت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔

مغلوں نے لودھیوں سے اقتدار چھینا تھا جو سوریوں کے محسن تھے۔ جب شیر شاہ نے اقتدار سنبھالا تو اس نے سارنگ خان سے بیعت چاہی۔ سارنگ خان کے انکار کی ایک بڑی وجہ مغلوں کے ساتھ سیاسی وفاداری تھی۔ اس پورے عمل میں پنجابیت اور پٹھانیت کہاں سے آ گئی؟ نہ ہی اس عہد میں ’پنجاب‘ کا موجودہ سیاسی و ثقافتی تصور موجود تھا۔

گکھڑوں نے مختلف ادوار میں بدلتے سیاسی حالات کے مطابق حکمرانوں کا ساتھ دیا۔ کبھی وہ لودھیوں کے حلیف رہے، کبھی مغلوں کے، کبھی افغانوں کے، اور بعد ازاں انگریزوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے۔ یہ طرزِ عمل کسی نسلی وابستگی کا نہیں بلکہ سیاسی مصلحت اور حالات کا عکاس تھا۔

اگر مجسمے کی تنصیب یا تنسیخ واقعی حکومتی سطح پر ہوئی ہے تو یہ افسوس ناک ہے کہ تاریخی معاملات کو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔ جس سے غیر ضروری تنازع نے جنم لیا۔ ذرا وہ عبارت ملاحظہ ہو جو دینہ میں سلطان سارنگ خان گکھڑ کے مجسمے پر درج ہے :

ضلع جہلم پنجاب دی اوہ مقدس دھرتی اے جس نے بہادری، غیرت تے جرت نال پنجابی قوم دا سر ہمیشہ فخر نال بلند رکھیا۔ ضلع جہلم ہر دور اچ ماں دھرتی پنجاب تے آپنڑی پنجابی قوم دی حفاظت لئی شہید تے غازی پیدا کردا رہیا اے۔ جو قوم تے وطن دی حفاظت لئی ڈٹ کے کھڑے ہوئے۔ سلطان سارنگ خان گکھڑ راجپوت پنجاب دے اوہ عظیم سلطان سن جنہاں پنجاب دی آزادی تے آپنڑی پنجابی قوم دی عزت لئی میدانِ جنگ وچ اپنے سولہ پتراں سمیت بہادری تے جرت نال شہادت قبول کیتی۔ پر کسے افغانی لٹیرے دا تسلط قبول نا کیتا۔ اج وی جہلم دی مٹی ایہ پیغام دیندی اے کہ پنجابی غلامی قبول نہیں کردے۔ اسیں مڈھ توں ہی سلطان آں۔ جیوے پنجابی قوم جیوے پنجاب وسے سوہنڑا پاکستان

ترجمہ: ”ضلع جہلم پنجاب کی وہ مقدس دھرتی ہے جس نے بہادری، غیرت اور جرات کے ساتھ پنجابی قوم کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھا۔ ضلع جہلم ہر دور میں ماں دھرتی پنجاب اور اپنی پنجابی قوم کی حفاظت کے لیے شہید اور غازی پیدا کرتا رہا ہے، جو قوم اور وطن کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ سلطان سارنگ خان گکھڑ راجپوت پنجاب کے وہ عظیم سلطان تھے جنہوں نے پنجاب کی آزادی اور اپنی پنجابی قوم کی عزت کے لیے میدان جنگ میں اپنے سولہ بیٹوں سمیت بہادری اور جرات کے ساتھ شہادت قبول کی، لیکن کسی افغانی لٹیرے کا تسلط قبول نہیں کیا۔ آج بھی جہلم کی مٹی یہ پیغام دیتی ہے کہ پنجابی غلامی قبول نہیں کرتے۔ ہم ازلی سلطان ہیں۔ زندہ باد پنجابی قوم، زندہ باد پنجاب، خوبصورت پاکستان زندہ باد۔

سرکاری مونوگرام اور چیف منسٹر مریم نواز کی تصویر کے ساتھ اس پلیٹ پر درج عبارت ”افغانی لٹیرا“ جیسے الفاظ کے ذریعے نسلی تعصب کو ہوا دے رہی ہے اور ”اسیں مڈھ توں ہی سلطان آں“ کی مبالغہ آرائی سے جدید قوم پرستی کی تجدید کر رہی ہے۔ پندرہویں صدی کے سیاسی پیکار کو آج کی نسلی شناختوں کے پیمانے سے ناپنا علمی طور پر درست نہیں اور سرکاری سطح پر ایسی زبان ملکی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ پورا معاملہ مریم نواز کے بیوٹیفیکیشن پروجیکٹ کے تحت شروع ہوا۔ دینہ کی انتظامیہ نے پہلے شیر شاہ سوری کا مجسمہ نصب کیا، پھر مقامی دباؤ پر اسے ہٹا کر سارنگ خان کا مجسمہ متنازع عبارت کے ساتھ لگا دیا۔ اگر مجسمہ تبدیل کرنا ہی تھا تو شیر شاہ سوری کو قلعہ رہتاس کے باہر نصب کیا جا سکتا تھا۔ مریم نواز کو یہاں ایک بالغ سیاست دان کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔ ان سے توقع تھی کہ وہ مقامی جذبات کی ترجمانی کی بجائے انہیں صحیح سمت دیں گی۔ لیکن اس معاملے میں نہ ان کا عمل کسی ذمہ دار حکومتی سربراہ کے شایانِ شان نہیں رہا۔

بہتر ہے کہ شیر شاہ سوری اور سلطان سارنگ خان دونوں کو ان کے عہد، سیاسی تناظر اور تاریخی کردار کے مطابق سمجھا جائے۔ یہ محض دو شخصیات کا تنازعہ نہیں، بلکہ ہماری تاریخ فہمی کا امتحان ہے۔ اس کے لیے ہمیں تعصب کی بجائے تحقیق کو معیار بنانا چاہیے اور نسلی و علاقائی بنیادوں پر بڑھی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لیے فوری اور موثر کوشش کرنی چاہیے۔

اس واقعے نے گلزار کی جنم بھومی دینہ کی تہذیبی لطافت کو دھندلا سا دیا ہے۔ وہی دینہ جسے گلزار نے اپنی یادوں میں پکھراج کے چاند اور پشمینے کی راتوں کی نرمی سے آباد کیا تھا، آج وہاں سے نفرت کے لہریں اٹھ رہی ہیں۔ کاش جہلم کی لہروں میں تہذیب کی روانی باقی رہے اور نالہ گھان تعصب کی آلودگی سے پاک رہے۔ شہروں کی شناخت نفرت سے نہیں، روایت، مکالمے اور باہمی احترام سے محفوظ رہتی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب، 20 فروری 2026ء)

بدھ، 18 فروری، 2026

0 تبصرے

 

گکھڑ، پٹھان اور پنجاب—   درست  تناظر

 طویل غیر حاضری کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ تحقیقی کام میں اس قدر مصروف رہا کہ سوشل میڈیا سے کٹ کر رہ گیا۔ کام ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن آج جہلم میں شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹانے اور سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کرنے سے متعلق پوسٹیں دیکھیں تو افسوس ہوا کہ ایک تاریخی معاملے کو پٹھان اور پنجابی کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ اس بحث کو تعصب سے نکال کر علمی سطح پر لانے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اہلِ علم اس سلسلے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

 میرے خیال میں موجودہ صورتِ حال میں اکبرنامہ کا ایک حوالہ اس بحث کو درست  تناظر دینے کے لیے کافی ہے۔ ضرورت پڑی تو دیگر حوالہ جات بھی پیش کر دیے جائیں گے۔

اکبرنامہ میں درج ہے:

زپوشیدہ نماند کہ گگران را طوایف بسیار است و در مابین آب بہت و سند توطن دارند۔ در زمان سلطان زین الدین کشمیری ملک کد نام از امرای غزنین کہ بہ حاکم کابل نیبتی داشت – آمدہ بزور اینجا را از تصرف کشمیریان گرفت(ابوالفضل، اکبرنامہ،جلد اول،  غلام مرتضی طباطبائی، تحقیقات فرہنگی، تہران،1372ھ، ص 477)

ترجمہ : یہ بات پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ بہت (جہلم) اور سندھ کے درمیان رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد جو غزنی کے امرا میں سے تھا اور جو حاکم کابل کا رشتہ دار تھا، نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔

 اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خطہ صدیوں سے مختلف طاقتوں اور قبائل کے باہمی تعامل کا میدان رہا ہے۔ یوں گکھڑ اور سوری دونوں  کا تعلق ایک ہی خطے  یعنی افغانستان سے ہے۔ دونوں قبیلے تقریباً ایک ہی دور میں یہاں آئے — وہ دور جب پہلی مرتبہ پٹھانوں (لودھی خاندان) کو دہلی کی تخت و تاج نصیب ہوا اور انہوں نے، عباس خان سروانی کے بقول  افغانستان سے لوگوں کو ہندوستان میں آباد ہونے کی ترغیب دی:


 عباس خان سروانی، تاریخ شیر شاہی، مترجم مظہر علی ولا خان، 1963ء، سلمان اکیڈمی، کراچی، صفحہ 8 اور 9

 شیر شاہ سوری کا دادا ابراہیم خان سوری اسی لودھی دور میں افغانستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا، بالکل اسی طرح جیسے ملک کد غزنی سے آ کر 'چانہ بنیر' میں آباد ہوا۔ان کے علاوہ  اس دور میں دیگر  افغان قبائل کی بڑی تعداد برصغیر آئی اور مقامی سماج کا حصہ بنی۔ وقت کے ساتھ یہ گروہ اسی معاشرتی ساخت میں ضم  ہو گئے ۔  اس خطے کی شناخت کی تشکیل میں سب نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس تاریخی عمل کو سادہ خانوں میں تقسیم کرنا یا موجودہ شناختوں کی بنیاد پر ماضی کو پرکھنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

 اس لیے گزارش ہے کہ اس مباحثے کو جذباتی ردِعمل کے بجائے تاریخی شعور کے ساتھ دیکھا جائے، تاکہ یہ تنازع ، تاریخ فہمی کا ذریعہ  بن سکے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مشترکہ ورثے پر فخر کریں، نہ کہ ایک دوسرے کو غیر ملکی ثابت کرنے میں لگے رہیں۔




جمعہ، 6 فروری، 2026

کہوٹہ کا ’’علی گڑھ ‘‘

0 تبصرے

  

گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ  کی ''لال عمارت'' کے جشن صد سالہ (1926-2026) کے حوالے سے خصوصی تحریر

’’ ککسٹ‘‘ اور ’’ کے آئی ٹی  ‘‘کے درمیان واقع  گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ اپنی شاندار عمارت اور تاریخی حیثیت کے باعث ممتاز مقام کا حامل ہے۔ کہوٹہ میں تعلیم کی اولین علامتوں میں سے ایک یہ تاریخ ساز ادارہ بذات خود ایک تاریخ ہے۔ یہ’’ لال‘‘ اسکول اب بہت سے نیلے پیلے اسکولوں میں گھرا ہوا ہے لیکن اپنی وسعت، اٹھان، دلکشی اور پائیداری میں لاثانی ہے۔ اس کی آتشیں اینٹوں سے دھیان لاہور سے ہوتا ہوا لال قلعہ دہلی سے جا ٹکراتا ہے۔ اس بلڈنگ کو پوٹھوہار کے نصف کوہسار کا علی گڑھ کہیں تو غلط نہ ہو گا۔

 کلر روڈ سے سکول میں داخل ہوں تو فلک بوس سرو، گلاب قامت مورپنکھ، متناسب روشیں، شاداب لان اور ان کے اطراف میں آتشیں اینٹوں کی ابھرتی  ہوئی سرخ عمارت نے منظر کو دل آویز بنا دیا ہے۔

  سکول کے صدر دروازے کے سامنے گھنے برگد کے ایک ڈال کے ساتھ گھنٹی بندھی ہے۔ سن چھبیس سے سنتالیس تک یہاں یونین جیک اور سنتالیس سے سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔ یہیں صبح اسمبلی ہوتی ہے۔

 U شکل کی اس عمارت کا رخ جنوب کی طرف ہے۔ اسکول کی مرکزی عمارت طرزِ تعمیر کا دل کش نمونہ ہے۔ قلعہ نما دیواریں، بلند و بالا چھتیں، کشادہ کمرے اور دو طرفہ دریچے اپنی مثال آپ ہیں۔ برآمدوں کی محرابی راہداریاں اس سکول کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں۔ ایک صدی سے، اس پرانی عمارت میں ہر سال ایک نئی نسل داخل ہوتی رہی۔ اس کی زندگی کے راستے ان راہداریوں میں متعین ہوئے اور اس اسکول کی فیض بخش فضاؤں نے ان کی آئندہ زندگی کو تابندگی بخشی۔


ایک زمانہ تھا جب یہ اسکول کوٹلی سے کلر تک تعلیمی فضیلت کا واحد مرکز تھا۔ چونکہ دور دراز سے اسکول پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی اس لیے اسکول کے بالائی منزل بورڈنگ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔

 تعلیمی اداروں کا ماحول نونہالوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ان کی تعمیر میں عظمت اور دل کشی کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔  گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول  کی عمارت اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس  کا ماحول فضائیں  انتہائی  دلکش اور خوشگوار ہیں۔ یہ تاریخی ادارہ ہماری ملی قدروں کا محافظ ہے۔ برآمدے کی دیواروں پر اقوالِ زریں اور منتخب اشعار لکھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ بچوں کی خدا داد صلاحیتوں کو جگمگانے اور انہیں اعلی اخلاق سے مزین کرنے میں مگن ہیں۔ برآمدوں میں لگی طلبہ اور اساتذہ کی گروپ تصاویر نے سکول کے نظارے کو منفرد بنا دیا ہے اور اسے انہیں دیکھ کر من میں یاد کی چنبیلی مہکنے لگتی ہے۔  

  کبھی یہاں پر ٹاٹ، تختی، کانے کے قلم اور سلیٹ کا چلن تھا لیکن اب کی بورڈ، ماؤس اور ٹچ کی تربیت کے لیے آئی ٹی لیب موجود ہے۔ اسکول کی سائنس لیبارٹری قابلِ رشک ہے۔ اتنے جدید اور قیمتی آلات کم ہی لیبارٹریوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ  ادارے کی لائبریری کو بھی  فعال بنا دیا گیا ہے۔

گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول  کہوٹہ تحصیل کے ایجوکیشنل سسٹم میں نیوکلیس کی حیثیت کا حامل ہے۔ ٹیچرز ٹریننگ، حج ٹریننگ، الیکشن ٹریننگ، کمپیوٹر ٹریننگ، تحصیل بھر کے لیے کتابوں کا اجرا، اوپن یونیورسٹی کے جملہ کورسز اور کھیلوں کے مقابلوں کا مرکز ہے۔ 

اسکول کی شمالی سمت ایک وسیع و عریض میدان ہے۔ تحصیل کی سطح کے کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلوں کی میزبانی کا شرف بھی اسی گراؤنڈ کے حصّے میں آتا ہے۔ شام کے اوقات اور چھٹی کے دنوں میں شہر بھر سے کھیلوں کے شوقین یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔

 سکول کی جنوبی سمت مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والے کلاس رومز ہیں۔ 1990 میں جناب کرنل محمد یامین ستّی نے سائنس روم کا افتتاح کیا اور دسمبر 2012 میں جناب شاہد خاقان عباسی نے 5 کمروں کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ ایک خوبصورت مسجد ہے جسے الحاج فضل الہی صاحب کے تعاون سے نئے سرے سے تعمیر کروایا گیا اور اس کا ایک دروازہ اہل محلہ کی سہولت کے لیے مین روڈ کی طرف کھلتا ہے۔

 اس ادارے کے چھبیسویں سربراہ جناب ناظم قمر کا پندرہ سالہ دور ایک روایتی سرکاری سکول کو ایک باوقار دانش گاہ میں بدلنے کی تخلیقی جدوجہد سے عبارت تھا۔ انہوں نے سکول کی تعمیر کے لیے بننے والے اینٹوں کے بھٹے کی باقیات کی جگہ ایک ہال اور دوخوبصورت لان بنوائے۔ جن کے وسط میں طشت نما گملے اور اطراف میں رنگ برنگے گلاب لگوا کرسکول کے استقبالیہ تاثر کو دل آویز بنایا۔سکول کے برآمدوں  اور فرنٹ وال کو معیاری اقوال و اشعار سے مزین کیا۔ اور برآمدوں میں ایسی تصاویر آویزاں کیں کہ آج بھی ان سے نگاہ نہیں اٹھتی۔

 سرکاری سکول ایک مدت تلک بچوں کے لیے خوف کی علامت رہے۔ ڈانٹ ڈپٹ، مولا بخش، رٹا، کان پکڑانا، مرغا بننا، جرمانہ، جسمانی سزائیں معمول رہا۔ اب مار کے بجائے پیار کا سلوگن چل رہا ہے۔ اس کے باوجود بچے چھٹی کی گھنٹی کے لیے ترستے   رہتے ہیں۔ 

ادارے کی سو سالہ تکمیل گورنمنٹ گریجویٹ کالج کے لیے بھی خوشی اور جشن کا تقاضا کرتی ہے۔ 1964ء میں یہیں انٹر کالج کے کلاسز شروع ہوئیں۔ 1980ء میں انٹر کالج لنگ ندی کے کنارے منتقل ہو گیا۔ اب ہائی اسکول، ہائر سیکنڈری اسکول اور انٹر کالج گریجویٹ کالج بن چکا ہے۔

سکول کی تاریخ کے اس یادگار موقع پر، اس کے پرنسپل جناب سید ضمیر حسین شاہ، ادارے کے باوقار اساتذہ اور نونہالوں کو دلی مبارک باد۔ نیز ان لاکھوں سابق طلبہ کو بھی، جن کی زندگیوں کو تابندگی بخشنے والی فیض بخش فضاء یہیں سے ملی۔

 زمانے کی دھوپ، بارشوں اور زلزلوں نے اس عمارت کو گھائل کر دیا ہے۔ یہ  تاریخی ورثہ اب ہماری توجہ چاہتا ہے۔ یہ محض اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ اہل کہوٹہ کے جذبوں اور  یادوں کی یادگار ہے۔لال عمارت کے سو برس کی تکمیل کے اس تاریخی موقع پر ہر صاحبِ دل سے اپیل ہے کہ وہ  کہوٹہ کے اس  ’’ علی گڑھ‘‘ کی حفاظت کے لیے آگے آئے، تاکہ اس زندہ تاریخ کو تابندہ بنایا جا سکے۔