گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ کی ''لال عمارت'' کے جشن صد سالہ (1926-2026) کے حوالے سے خصوصی تحریر
’’ ککسٹ‘‘ اور ’’ کے آئی ٹی ‘‘کے درمیان واقع گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول، کہوٹہ اپنی شاندار عمارت اور تاریخی حیثیت کے باعث ممتاز مقام کا حامل ہے۔ کہوٹہ میں تعلیم کی اولین علامتوں میں سے ایک یہ تاریخ ساز ادارہ بذات خود ایک تاریخ ہے۔ یہ’’ لال‘‘ اسکول اب بہت سے نیلے پیلے اسکولوں میں گھرا ہوا ہے لیکن اپنی وسعت، اٹھان، دلکشی اور پائیداری میں لاثانی ہے۔ اس کی آتشیں اینٹوں سے دھیان لاہور سے ہوتا ہوا لال قلعہ دہلی سے جا ٹکراتا ہے۔ اس بلڈنگ کو پوٹھوہار کے نصف کوہسار کا علی گڑھ کہیں تو غلط نہ ہو گا۔
کلر روڈ سے سکول میں داخل ہوں تو فلک بوس سرو، گلاب قامت مورپنکھ، متناسب روشیں، شاداب لان اور ان کے اطراف میں آتشیں اینٹوں کی ابھرتی ہوئی سرخ عمارت نے منظر کو دل آویز بنا دیا ہے۔
سکول کے صدر دروازے کے سامنے گھنے برگد کے ایک ڈال کے ساتھ گھنٹی بندھی ہے۔ سن چھبیس سے سنتالیس تک یہاں یونین جیک اور سنتالیس سے سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔ یہیں صبح اسمبلی ہوتی ہے۔
U شکل کی اس عمارت کا رخ جنوب کی طرف ہے۔ اسکول کی مرکزی عمارت طرزِ تعمیر کا دل کش نمونہ ہے۔ قلعہ نما دیواریں، بلند و بالا چھتیں، کشادہ کمرے اور دو طرفہ دریچے اپنی مثال آپ ہیں۔ برآمدوں کی محرابی راہداریاں اس سکول کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں۔ ایک صدی سے، اس پرانی عمارت میں ہر سال ایک نئی نسل داخل ہوتی رہی۔ اس کی زندگی کے راستے ان راہداریوں میں متعین ہوئے اور اس اسکول کی فیض بخش فضاؤں نے ان کی آئندہ زندگی کو تابندگی بخشی۔
ایک زمانہ تھا جب یہ اسکول کوٹلی سے کلر تک تعلیمی
فضیلت کا واحد مرکز تھا۔ چونکہ دور
دراز سے اسکول پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی اس لیے اسکول کے بالائی
منزل بورڈنگ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
تعلیمی اداروں کا ماحول نونہالوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ان کی تعمیر میں عظمت اور دل کشی کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول کی عمارت اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کا ماحول فضائیں انتہائی دلکش اور خوشگوار ہیں۔ یہ تاریخی ادارہ ہماری ملی قدروں کا محافظ ہے۔ برآمدے کی دیواروں پر اقوالِ زریں اور منتخب اشعار لکھے ہوئے ہیں۔ اساتذہ بچوں کی خدا داد صلاحیتوں کو جگمگانے اور انہیں اعلی اخلاق سے مزین کرنے میں مگن ہیں۔ برآمدوں میں لگی طلبہ اور اساتذہ کی گروپ تصاویر نے سکول کے نظارے کو منفرد بنا دیا ہے اور اسے انہیں دیکھ کر من میں یاد کی چنبیلی مہکنے لگتی ہے۔
کبھی یہاں پر ٹاٹ، تختی، کانے کے قلم اور سلیٹ کا چلن تھا لیکن اب کی بورڈ، ماؤس اور ٹچ کی تربیت کے لیے آئی ٹی لیب موجود ہے۔ اسکول کی سائنس لیبارٹری قابلِ رشک ہے۔ اتنے جدید اور قیمتی آلات کم ہی لیبارٹریوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارے کی لائبریری کو بھی فعال بنا دیا گیا ہے۔
گورنمنٹ بوائز ہائرسیکنڈری اِسکول کہوٹہ تحصیل کے ایجوکیشنل سسٹم میں نیوکلیس کی حیثیت کا حامل ہے۔ ٹیچرز ٹریننگ، حج ٹریننگ، الیکشن ٹریننگ، کمپیوٹر ٹریننگ، تحصیل بھر کے لیے کتابوں کا اجرا، اوپن یونیورسٹی کے جملہ کورسز اور کھیلوں کے مقابلوں کا مرکز ہے۔اسکول کی شمالی سمت ایک وسیع و
عریض میدان ہے۔ تحصیل کی سطح کے کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلوں کی میزبانی کا شرف بھی
اسی گراؤنڈ کے حصّے میں آتا ہے۔ شام کے اوقات اور چھٹی کے دنوں میں شہر بھر سے
کھیلوں کے شوقین یہاں جمع ہو جاتے ہیں۔
سکول کی جنوبی سمت مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والے کلاس رومز ہیں۔ 1990 میں جناب کرنل محمد یامین ستّی نے سائنس روم کا افتتاح کیا اور دسمبر 2012 میں جناب شاہد خاقان عباسی نے 5 کمروں کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ ایک خوبصورت مسجد ہے جسے الحاج فضل الہی صاحب کے تعاون سے نئے سرے سے تعمیر کروایا گیا اور اس کا ایک دروازہ اہل محلہ کی سہولت کے لیے مین روڈ کی طرف کھلتا ہے۔
اس ادارے کے چھبیسویں سربراہ جناب ناظم قمر کا پندرہ سالہ دور ایک روایتی سرکاری سکول کو ایک باوقار دانش گاہ میں بدلنے کی تخلیقی جدوجہد سے عبارت تھا۔ انہوں نے سکول کی تعمیر کے لیے بننے والے اینٹوں کے بھٹے کی باقیات کی جگہ ایک ہال اور دوخوبصورت لان بنوائے۔ جن کے وسط میں طشت نما گملے اور اطراف میں رنگ برنگے گلاب لگوا کرسکول کے استقبالیہ تاثر کو دل آویز بنایا۔سکول کے برآمدوں اور فرنٹ وال کو معیاری اقوال و اشعار سے مزین کیا۔ اور برآمدوں میں ایسی تصاویر آویزاں کیں کہ آج بھی ان سے نگاہ نہیں اٹھتی۔
سرکاری سکول ایک مدت تلک بچوں کے لیے خوف کی علامت رہے۔ ڈانٹ ڈپٹ، مولا بخش، رٹا، کان پکڑانا، مرغا بننا، جرمانہ، جسمانی سزائیں معمول رہا۔ اب مار کے بجائے پیار کا سلوگن چل رہا ہے۔ اس کے باوجود بچے چھٹی کی گھنٹی کے لیے ترستے رہتے ہیں۔
ادارے کی سو سالہ تکمیل گورنمنٹ گریجویٹ کالج کے لیے بھی خوشی اور جشن کا تقاضا کرتی ہے۔ 1964ء میں یہیں انٹر کالج کے کلاسز شروع ہوئیں۔ 1980ء میں انٹر کالج لنگ ندی کے کنارے منتقل ہو گیا۔ اب ہائی اسکول، ہائر سیکنڈری اسکول اور انٹر کالج گریجویٹ کالج بن چکا ہے۔
سکول کی تاریخ کے اس یادگار موقع پر، اس کے پرنسپل جناب سید ضمیر حسین شاہ، ادارے کے باوقار اساتذہ اور نونہالوں کو دلی مبارک باد۔ نیز ان لاکھوں سابق طلبہ کو بھی، جن کی زندگیوں کو تابندگی بخشنے والی فیض بخش فضاء یہیں سے ملی۔
زمانے کی دھوپ، بارشوں اور زلزلوں نے اس عمارت کو گھائل کر دیا ہے۔ یہ تاریخی ورثہ اب ہماری توجہ چاہتا ہے۔ یہ محض اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ اہل کہوٹہ کے جذبوں اور یادوں کی یادگار ہے۔لال عمارت کے سو برس کی تکمیل کے اس تاریخی موقع پر ہر صاحبِ دل سے اپیل ہے کہ وہ کہوٹہ کے اس ’’ علی گڑھ‘‘ کی حفاظت کے لیے آگے آئے، تاکہ اس زندہ تاریخ کو تابندہ بنایا جا سکے۔



